Updated: October 15, 2026, 5:02 PM IST
| Hague
نوبل امن انعام یافتہ نوی پلے نے ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو پر مقدمہ چلاکر اسے سزادینا چاہیے،ساتھ ہی انہوں نے آئی سی سی کے خلاف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی غیر قانونی پابندیوں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیا اور اس کے وقت پر سوال اٹھایا۔
نوبل امن انعام یافتہ نوی پلے۔ تصویر: آئی این این
نوبل امن انعام یافتہ نوی پلے، جو جنوبی افریقی جج ہیں، نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم ایک دن بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے کٹہرے میں ہوں گے۔ گزشتہ سال اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری کی سربراہ کے طور پر اپنے دور میں، پلے نے پایا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کو آئی سی سی کے الزامات جس کی اسرائیلی وزیر اعظم نے تردید کی ہے،کا سامنا کرنے کے لیے گرفتار کرنے کی بہت کم سیاسی خواہش ہے ۔تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا نیتن یاہو کے کبھی آئی سی سی کے کٹہرے میں آنے کا امکان ہے، تو پلے نے کہا، ’’میری ساری زندگی میں نے دیکھا ہے کہ لوگ مشکلات سے نکل جاتے ہیں، اس لیے مجھے یقین ہے کہ ایسا ہوگا۔‘‘ساتھ ہی انہوں نے آئی سی سی کے خلاف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی غیر قانونی پابندیوں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیا اور اس کے وقت پر سوال اٹھایا۔یاد رہے کہ نوی پلے کو نوبیل انعام کا حقدار قرار دیے جانے کےکچھ ہی گھنٹوں بعد آئی سی سی کے خلاف ٹرمپ نے پابندیاں عائد کی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نےشمالی مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں میں بے گھر فلسطینیوں کی واپسی مسترد کی
نیتن یاہو پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے
اسکائی نیوز کے ساتھ ایک اور انٹرویو میں، انہوں نے اپنی رپورٹ کے بارے میں بات کی جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں شہریوں اور بچوں کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا، ’’ہماری سفارش، ہماری تلاش یہ ہے کہ صدر، وزیر اعظم نیتن یاہو، اور سابق وزیر دفاع پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔‘‘
واضح رہے کہ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ پرنیتن یاہو کی سربراہی میں بمباری کے نتیجے میں ۷۴؍ہزار فلسطینی شہید اور تقریباً ایک لاکھ ۷۴؍ دیگر زخمی ہو گئے ہیں، اس کے علاوہ پورے شہر کو کھنڈر میں تبدیل کرکے پوری آبادی کو بے گھر کردیا گیا ہے۔ انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں آئی سی سی نے نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا ہے۔ جس کی بنا پر پلے نے یہ بیان دیا ہے۔