اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے شمالی مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں میں بے گھر فلسطینیوں کی واپسی کو مسترد کر دیا،انہوں نے رہائشیوں کی واپسی کے لیے ٹائم ٹیبل طلب کرنے والے عدالتی حکم کے باوجود مسلسل فوجی کنٹرول کا عزم ظاہر کیا۔
EPAPER
Updated: October 14, 2026, 10:02 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے شمالی مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں میں بے گھر فلسطینیوں کی واپسی کو مسترد کر دیا،انہوں نے رہائشیوں کی واپسی کے لیے ٹائم ٹیبل طلب کرنے والے عدالتی حکم کے باوجود مسلسل فوجی کنٹرول کا عزم ظاہر کیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے منگل کو شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی افواج علاقے پر کنٹرول برقرار رکھیں گی۔ان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو کے مطابق، ان کے ریمارکس طولکرم پناہ گزین کیمپ کے قریب وزیر دفاع اسرائیل کاٹز اور سینئر فوجی افسران کے ہمراہ دورے کے دوران سامنے آئے۔نیتن یاہو نے کیمپ کو ’’دہشت گردوں کا گڑھ‘‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوجیوں نے ان کی حکومت کے حکم پر اسے خالی کرایا تھا۔بے گھر فلسطینیوں کی واپسی سے متعلق اسرائیلی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا،’’یہ رہائشی نہیں ہیں، یہ دہشت گرد ہیں۔‘‘مزید برآں انہوں نے اصرار کیا کہ اسرائیلی فوج کنٹرول رکھے گی، ساتھ ہی دریائے اردن کے مغرب میں کسی بھی عرب فوجی قوت کی موجودگی کو مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کو عدالتی جھٹکا، سی این این، ایم ایس ناؤ، پولیٹیکو پر پابندی روک دی گئی
واضح رہے کہ اتوار کو اسرائیل کی سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ وہ جنین، طولکرم اور نور شمس پناہ گزین کیمپوں میں بے گھر فلسطینیوں کو ان کے گھروں میں واپس آنے کی اجازت دینے کے لیے درکار اقدامات کا ٹائم ٹیبل فراہم کرے اور ان کی واپسی کو تیز کرنے کے طریقوں کا جائزہ لے۔ دراصل اسرائیلی افواج نے۲۰۲۵ء کے اوائل سے تینوں کیمپوں سے بے گھر ہونے والے ہزاروں فلسطینیوں کو گھر واپس آنے سے روک رکھا ہے۔ علاوہ ازیں نیتن یاہو نے فلسطینی اتھارٹی کی سیکورٹی فورسیز کے ساتھ ممکنہ تصادم سے بھی خبردار کیا، اورکہا کہ وہ انتخابات سے قبل اپنے ہتھیار اسرائیل کے خلاف موڑ سکتے ہیں۔مزید برآں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے ایسے منظر نامے کے لیے جواب تیار کر رکھا ہے،ساتھ ہی اپنی افواج کو چیلنج کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف خبردار کیا۔
تاہم اسرائیلی نیوز ویب سائٹ وائی نیٹ نے رپورٹ کیا کہ فوج کے پاس کوئی انٹیلی جنس نہیں ہے جو اس بات کی نشاندہی کرے کہ فلسطینی اتھارٹی کی سیکورٹی فورسیز اس طرح کے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
اس کے علاوہ نیتن یاہو نے دریائے اردن اور بحیرہ روم کے درمیان علاقے پر کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنی حکومت کے عزم کا بھی اعادہ کیا، اور دعویٰ کیا کہ اس نے۱۰۴؍ سے زیادہ بستیاں اور متعدد فارم قائم کیے ہیں۔دریں اثناء حالیہ ہفتوں میں، انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں سیکورٹی پر تیزی سے توجہ مرکوز کی ہے، خود کو خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے بہترین طور پر لیس قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن شخصیات ان پر سیاسی فائدے کے لیے عوامی خوف کا استحصال کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔