• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُترپردیش کے ایس آئی آر میں ہر پانچ میں سے ایک ووٹر خارج

Updated: January 06, 2026, 10:54 PM IST | Abdullah Rashid | Lucknow

۲؍ کروڑ ۸۹؍ لاکھ ووٹرس کے نام حذف، ایک ماہ میں دعوے اور اعتراضات کا تصفیہ کئے جانے کی یقین دہانی ، ۲۵ ؍لاکھ ڈپلیکیٹ اور ۴۶؍ لاکھ مردہ ووٹرس پائے گئے

Uttar Pradesh Chief Electoral Officer Navdeep Ranwa briefed the media on the SIR.
اترپردیش کے چیف الیکشن افسر نودیپ رنوا نے میڈیا کو ایس آئی آر سے متعلق معلومات فراہم کی

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے منگل کو خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) مہم کے تحت اتر پردیش کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری کردی ہے جس میں تقریباً۲ء۸۹؍ کروڑ نام کاٹے گئے ہیں۔ اب نئی فہرست کے مطابق کل ووٹروں کی تعداد۱۵ء۴۴؍ کروڑ سے کم ہو کر۱۲ء۵۶؍ کروڑ رہ گئی ہے جو کہ تقریباً۱۸ء۷۰؍ فیصد کی کمی ہے۔
 اترپردیش کے چیف الیکشن افسر نودیپ رنوا کے ذریعہ جاری ڈرافٹ لسٹ کے مطابق تقریباً ۲؍ کروڑ ۸۹ ؍لاکھ ووٹروں کے نام اس نئی فہرست میںشامل نہیں ہیں۔ اس طرح ایس آئی آر کےبعدیوپی میں اب مجموعی طور پر ۱۲ ؍کروڑ ۵۶ ؍لاکھ سے زائد ووٹرس کے نام درست پائے گئے ہیں۔ ان میں ۲۵؍لاکھ سے زائد ووٹروں کے نام ایک سے زائد مقام پر درج تھے جبکہ ۴۶ء۲۳ ؍لاکھ ایسے ووٹر س کے نام درج تھے جن کی اس دوران موت ہوچکی ہے۔ایس آئی آر میں ۲ ؍کروڑ ۱۷؍ لاکھ ایسے ووٹرس کے نام کاٹے گئے ہیں جو غیر حاضر رہے۔ اس طرح ایس آئی آر کی کارروائی کے دوران تقریباً ۱۸ ؍فیصد فارم جمع نہیں ہو ئے۔
۶؍ فروری تک اعتراضات داخل کرنے کاوقت
 اتر پردیش کے سی ای او نودیپ رنوا نے بتایا کہ ۲۰۰۳ء میں جن ووٹروں کےنام کی میپنگ نہیں ہو سکی ہے، ایسے تقریباً ایک کروڑ ۴؍ لاکھ ووٹرس ہیں۔ان تمام افراد کو نوٹس بھیجے جائیں گے۔ انھوںنے کہاکہ یہ تمام لوگ ۶؍ فروری تک کمیشن کے سامنےدعوے اور اعتراضات داخل کر سکتےہیں ۔ 
فائنل لسٹ کی اشاعت ۶ ؍مارچ کو ہوگی
  منگل کو لوک بھون میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے اُتر پردیش کے چیف الیکشن افسر نےبتایا کہ کمیشن کی جانب سے سبھی ۷۵ ؍اضلاع میں ایس آئی آر کے کام کیلئے ضلع الیکشن افسر، ۴۰۳؍ ای آر او ، ۴۲ ؍اسسٹنٹ ای آر او اور ۱۶؍ لاکھ ۶۲ ؍ہزار ۴۸۶؍ بی ایل اوز کو لگایا گیا تھا ، جنہوںنے بڑی تعدادمیں ووٹرس سے رابطہ کرکے فارم جمع کرائے۔ انھوںنے کہاکہ جن ووٹرس کے نام لسٹ میں شامل نہیں ہیں وہ ۶ ؍فروری تک اپنے دستاویز کے ساتھ فارم نمبر ۶؍ بھرکر بی ایل اوز یا کسی دوسرے افسر سے مل کر اپنا نام شامل کروا سکتے ہیں۔ انھوںنے کہاکہ ووٹرس کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ان کا نام ایک ہی جگہ پر درج کیا جائے۔اعتراضات کا تصفیہ کرنے کے بعد فائنل لسٹ کی اشاعت ۶ ؍مارچ کو ہوگی۔ انھوںنے بتا یا کہ ایس آئی آر کے بعد سہارن پور میں ۱۶ء۳۷؍ ، مظفر نگر میں ۱۶ء۲۹؍ ، میرٹھ میں۲۴ء۶۵؍ ، غازی آباد میں ۲۸ء۸۳؍ ، بلند شہر میں ۱۵ء۱۴؍ ، گوتم بدھ نگر میں ۲۳ء۹۸؍ ، آگرہ میں ۲۳ء۲۵؍ ، بریلی میں ۲۰ء۲۹؍، بدایوں ۲۰ء۳۹؍ ، شاہجہان پور میں ۲۱ء۷۶؍ ، کانپور شہر میں۲۵ء۵۰؍، الہ آباد میں ۲۴ء۶۴؍،سدھارتھ نگر میں ۲۰ء۳۳؍  اورسنبھل میں ۲۰ء۲۹؍ فیصد ووٹرس کے نام کٹے ہیں ۔ 
 راجدھانی میں۳۰؍ فیصد سےزیادہ نام کٹے 
   ڈرافٹ لسٹ کے مطابق راجدھانی لکھنؤمیں سب سے زیادہ ۳۰؍ فیصد ووٹروںکے نام کٹے ہیں ۔ راجدھانی میں ایس آئی آر سے قبل ۳۹؍ لاکھ ۹۴؍ ہزار سے زائد ووٹر تھے جو ایس آئی آر کے بعد ۲۷ ؍لاکھ ۹۴ ؍ہزار رہ گئے ہیں ۔
اٹاوہ اسمبلی میں ایک لاکھ سے زائد نام حذف ہوئے
 ضلع اٹاوہ میں ایس آئی آرکے بعد شائع ڈرافٹ رول کے مطابق ضلع میں اب ووٹروں کی کل تعداد۹؍ لاکھ۹۶؍ ہزار۶۱۳؍ رہ گئی ہے۔ اس سے قبل ضلع میں ووٹروں کی تعداد۱۲؍ لاکھ۲۹؍ ہزار۶۳۱؍ تھی۔ ضلع کے تینوں اسمبلی حلقوں میں ووٹروں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم اٹاوا صدر اسمبلی حلقہ اس معاملے میں سب سے آگے ہے جہاں ایک لاکھ۵؍ ہزار۶۱۰؍ ووٹرس کم ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ ۲۰۲۴ء میں اٹاوہ لوک سبھا حلقے میں سماجوادی پارٹی کو کامیابی ملی تھی جبکہ اسمبلی انتخابات میں ۵؍ میں سے ۳؍ پر بی جے پی اور ۲؍ پر سماجوادی کا قبضہ ہوا تھا۔   

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK