اسد الدین اویسی نے کہا کہ ’’اپوزیشن کو دبانے کیلئے اس طرح کے اقدامات کئے جارہے‘‘ ششی تھرورنے کہا کہ ’’حد بندی بل میں ۳؍بڑے مسائل ہیں‘‘
EPAPER
Updated: April 18, 2026, 7:29 AM IST | New Delhi
اسد الدین اویسی نے کہا کہ ’’اپوزیشن کو دبانے کیلئے اس طرح کے اقدامات کئے جارہے‘‘ ششی تھرورنے کہا کہ ’’حد بندی بل میں ۳؍بڑے مسائل ہیں‘‘
خواتین ریزرویشن اور حدبندی کے معاملے میں مودی حکومت کے موقف کے تئیں اپوزیشن نے متفقہ طور پر شبہات کا اظہار کیا اور سخت سوالات قائم کئے۔
ہم ۳۳؍ نہیں، ۵۰؍ فیصد خواتین ریزرویشن کےحق میں : تیجسوی
بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرتیجسوی یادو نے کہا ہے کہ وہ خواتین کیلئے ۳۳؍نہیں ، ۵۰؍فیصد ریزرویشن کے حق میں ہیں۔ راشٹریہ جنتادل کے قومی کارگزار صدر تیجسوی یادو نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم ۳۳؍فیصد نہیں بلکہ ۵۰؍فیصد خواتین ریزرویشن بل کے حق میں ہیں۔لالو پرساد سمیت تمام سماجوادی لیڈروں کا یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ خواتین ریزرویشن کے اندر ایس سی؍ ایس ٹی اور اوبی سی زمرہ کی خواتین کےلیے الگ سے ریزرویشن ہوناچاہیے تبھی مکمل انصاف ہوگا۔ تیجسوی نے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ۲۰۲۳ء میںاتفاق رائے سے خواتین ریزرویشن بل منظور کیا گیا تھا۔ مودی حکومت نے کہا کہ اسے ذات پر مبنی مردم شماری اور حد بندی کے بعد ۲۰۳۴ءمیں نافذ کریں گے۔ تین سال تک اس بل کو نوٹیفائی نہیں کیا گیا ۔ اب خواتین ریزرویشن بل کی آڑ میں بی جے پی چالاکی سے حد بندی، آئین میں تبدیلی، جمہوریت کو ختم کرنے اور وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرناچاہتی ہے۔
خواتین ریزرویشن کے نام پر اقتدارپر قبضہ :راج
مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے لوک سبھا حلقوں کی مجوزہ حد بندی کے معاملے پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ خواتین ریزرویشن کے نام پر بھارتیہ جنتا پارٹی طویل مدتی سیاسی غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو ’’خطرناک عزائم‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق مرکز خواتین ریزرویشن بل۲۰۲۳ء اور حد بندی کے عمل کے ذریعے اقتدار پر مستقل کنٹرول قائم رکھنا چاہتا ہے۔ راج ٹھاکرے نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی خواتین کے لیے۳۳؍ فیصد ریزرویشن کی حمایت کرتی ہے، تاہم وہ آبادی کی بنیاد پر حلقوں کی نئی تقسیم کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر اور جنوبی ریاستیں، جنہوں نے آبادی پر قابو پایا ہے، اس عمل میں نقصان اٹھائیں گی، جبکہ زیادہ آبادی والے ریاستوں کو پارلیمنٹ میں زیادہ نمائندگی ملے گی۔
مسلمانوں کی سیاسی آواز دبانے کا منصوبہ:اویسی
خواتین ریزرویشن اور ڈِی لیمیٹیشن بل پر پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ایم آئی ایم سربراہ اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے جمعرات کو کہا کہ یہ اقدام مسلمانوں کی سیاست کو ختم کرنے کیلئے لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس آئینی ترمیمی بل کو حدبندی بل کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو نشستوں کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہوگی۔انہوں نے مزید کہا:’’جن کی آبادی زیادہ ہے، انہیں زیادہ نشستیں ملیں گی اور جن کی آبادی کم ہے، انہیں کم نشستیں ملیں گی۔ حدبندی ہر۱۰؍ سال میں نہیں ہوگی، یہ لازمی طور پر مردم شماری پر بھی منحصر نہیں ہوگی بلکہ حکومت طے کرے گی کہ کب حدبندی ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حقیقت میں شمالی ریاستیں جنوبی ریاستوں پر حاوی ہو جائیں گی، شمال کا دائرہ اثر بڑھے گا اور اس کا بوجھ جنوب کو اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ان بلوں کے ذریعے مسلمانوں کو سیاسی طور پر ختم کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق، بی جے پی کو مسلم ووٹ کی ضرورت نہیں ہے، اسی لئے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حد بندی بھی سیاسی نوٹ بندی : ششی تھرور
کانگریس رکن پارلیمان ششی تھرور نے کہا کہ آپ حدبندی (ڈی لیمیٹیشن) کو اسی جلدبازی میں لا رہے ہیں، جیسے نوٹ بندی نافذ کی گئی تھی۔ ہم نے دیکھا کہ اس سے کتنا نقصان ہوا۔ حدبندی بھی ایک سیاسی نوٹ بندی ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے اسے نافذ نہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حدبندی میں ۳؍ بڑے مسائل پر توجہ دینا ضروری ہے۔پہلا، چھوٹے اور بڑے ریاستوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا۔ دوسرا،ان ریاستوں کے ساتھ انصاف کرنا جنہوں نے آبادی پر قابو پانے کی پالیسی پر عمل کیا۔