Updated: June 03, 2026, 4:05 PM IST
| New Delhi
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے اعلان کیا ہے کہ اگر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان ۵؍ جون تک استعفیٰ نہیں دیتے تو وہ۶؍ جون کو دہلی میں ہونے والے’’ کاکروچ جنتا پارٹی ‘‘ کے احتجاج میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور امتحانی بے ضابطگیوں پر جوابدہی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
سونم وانگچک۔ تصویر: آئی این این
تعلیمی اصلاحات کے علمبردار اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے منگل کو کہا کہ اگر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان ۵؍ جون جون تک استعفیٰ نہیں دیتے تو وہ۶؍ جون کو دہلی میں ہونے والے احتجاج میں شامل ہوں گے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔ وانگچک نے کہا کہ ان کا یہ فیصلہ ملک میں تعلیم کی موجودہ صورتحال اور اصلاحات کے نفاذ سے متعلق وسیع تر خدشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)، جس نے جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا ہے، نے وانگچک کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے ایکس پر لکھا:’’سونم وانگچک کاکروچ موومنٹ میں شامل ہو گئے ہیں ! سر، ہماری تحریک میں شامل ہونے پر آپ کا شکریہ۔ ہم سب ’’کاکروچز‘‘کیلئے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے۔ ۶؍ جون کو آپ سے ملاقات کے منتظر ہیں۔ جے ہند۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: خان سر کے کیمپس کے قریب فائرنگ، پولیس کی تحقیقات شروع
انسٹاگرام پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں وانگچک نے کہا کہ انہوں نے دیپکے سے بات کی اور یہ یقین دہانی حاصل کی کہ یہ تحریک ہندوستانی نوجوانوں کی آواز ہے اور اس پر کسی’’غیر ملکی طاقت‘‘ کا اثر و رسوخ نہیں ہے۔ وانگچک نے کہا:’’ان سے بات کرنے کے بعد مجھے واقعی محسوس ہوا کہ ان کے ارادے غلط نہیں ہیں، وہ انتہائی محبِ وطن ہیں۔ درحقیقت وہ ملک کو بہتر بنانے کیلئے قربانی دے رہے ہیں۔ ‘‘اگرچہ احتجاج کے بہت سے حامی مبینہ نیٹ پرچہ لیک، سی یو ای ٹی اور سی بی ایس ای امتحانات سے متعلق خدشات کو بنیاد بنا رہے ہیں، وانگچک نے کہا کہ ان کی حمایت کی وجہ تعلیمی نظام سے متعلق وسیع تر مسائل اور بامعنی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کسانوں کے مسائل فوراً حل نہ کئے گئے تو کسان سڑکوں پر اتر سکتے ہیں‘‘
انہوں نے کہا:’’گزشتہ چار دہائیوں سے میں تعلیم کے میدان میں بہتری کیلئے کوشش اور جدوجہد کر رہا ہوں، ‘‘ اور دور دراز علاقوں کے سرکاری اسکولوں میں اپنے کام کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی (NEP) اور ۲۰۴۷ءتک ترقی یافتہ ہندوستان کا وژن اچھی نیت پر مبنی ہیں لیکن ان کی کامیابی کا انحصار زمینی سطح پر ان کے مؤثر نفاذ پر ہوگا۔ انہوں نے کہا:’’نیت کے لحاظ سے میں حکومت کو دس میں سے دس نمبر دوں گا۔ لیکن زمین پر کتنا عمل درآمد ہوتا ہے، اسی سے معلوم ہوگا کہ کتنی پیش رفت ہو رہی ہے۔ ‘‘دیہی اسکولوں اور ابتدائی تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے وانگچک نے کہا کہ آج دیہات کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی حالت ہی طے کرے گی کہ ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب حقیقت بنے گا یا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: انتخابی تشدد کیخلاف ممتا بنرجی کا ’میگا ‘ دھرنا
انہوں نے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے جڑا ایک سنگین مسئلہ قرار دیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ان واقعات کے بعد کون سی اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔ احتساب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وانگچک نے کہا کہ ایک ’’خوددار جمہوریت‘‘ میں جب اس نوعیت کی ناکامیاں سامنے آئیں تو وزرائے تعلیم کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا:’’مجھے امید ہے کہ اگلے چند دنوں میں یا تو کوئی تبدیلی آئے گی یا استعفیٰ دیا جائے گا۔ اگر۵؍ جون تک بھی ایسا نہیں ہوتا تو پھر میں بھی۶؍ جون کو دہلی میں آپ سب کے ساتھ شامل ہونے پر مجبور ہو جاؤں گا تاکہ یہ مطالبہ کر سکوں۔ ‘‘بتا دیں کہ ۶؍ جون کے احتجاج کا اعلان اس سے قبل دیپکے نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہندوستان واپس آ رہے ہیں تاکہ امتحانات اور تعلیمی نظم و نسق میں مبینہ کوتاہیوں کے خلاف اور دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کیلئے ایک پُرامن احتجاج شروع کیا جا سکے۔