فلسطینی فٹبال اسوسی ایشن نے عالمی فٹبال تنظیم فیفا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف اپنے ہی قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہیں کیا اور برسوں سے فلسطینی فٹبال سے متعلق شکایات پر مناسب کارروائی نہیں کی۔
EPAPER
Updated: August 04, 2026, 5:04 PM IST | Gaza
فلسطینی فٹبال اسوسی ایشن نے عالمی فٹبال تنظیم فیفا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف اپنے ہی قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہیں کیا اور برسوں سے فلسطینی فٹبال سے متعلق شکایات پر مناسب کارروائی نہیں کی۔
فلسطینی فٹبال اسوسی ایشن (پی ایف اے)(PFA) نے عالمی فٹبال تنظیم فیفا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف اپنے ہی قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہیں کیا اور برسوں سے فلسطینی فٹبال سے متعلق شکایات پر مناسب کارروائی نہیں کی۔
یہ بھی پڑھئے:کشور کمار کیلئےفلم کاکوئی ایسا شعبہ نہیں تھا جس میں انہیں دلچسپی نہ رہی ہو
اسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران فلسطینی فٹبال کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تنظیم کے مطابق اب تک ۱۰۱۳؍ سے زائد فلسطینی فٹبالرز، کوچز، ریفریز، آفیشلز اور فٹبال کمیونٹی کے دیگر افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسٹیڈیمز، تربیتی مراکز اور دیگر کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ بھی تباہ ہو گیا ہے۔
پی ایف اے کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ کئی برسوں سے فیفا کے سامنے متعدد شکایات پیش کیں، جن میں اسرائیلی فٹبال کلبوں اور دیگر معاملات پر کارروائی کا مطالبہ بھی شامل تھا، لیکن ان کے بقول عالمی ادارے نے اپنے ضوابط پر مکمل عمل نہیں کیا۔
یاد رہے کہ مارچ ۲۰۲۶ء میں فیفا نے اسرائیلی فٹبال اسوسی ایشن پر امتیازی سلوک اور منصفانہ کھیل کے اصولوں کی بعض خلاف ورزیوں پر جرمانہ عائد کیا تھا، تاہم اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے یا مغربی کنارے میں قائم کلبوں کے معاملے پر مزید سخت پابندیاں عائد نہیں کیں۔ فیفا نے اس کی وجہ ان علاقوں کی قانونی حیثیت کو پیچیدہ قرار دیا تھا۔
فلسطینی فٹبال اسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ فیفا تمام رکن ممالک کے ساتھ یکساں سلوک کرے اور اپنے قوانین کو بلاامتیاز نافذ کرے تاکہ عالمی فٹبال میں انصاف اور برابری کے اصول برقرار رہ سکیں۔