• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیراماؤنٹ اور وارنر برادرز کا۱۱۰؍ ارب ڈالر کا تاریخی انضمام مکمل

Updated: October 07, 2026, 6:00 PM IST | New York

ہالی ووڈ میں کئی ماہ تک جاری رہنے والی کشمکش، قانونی رکاوٹوں اور شدید تنازع کے بعد پیراماؤنٹ اسکائی ڈانس اور وارنر برادرز ڈسکوری کا تقریباً ۱۱۰؍ ارب ڈالر کا انضمام مکمل ہوگیا ہے۔ اس تاریخی سودے کے نتیجے میں ایک نئی عالمی تفریحی کمپنی وجود میں آئی ہے جس کا نام اسکائی ڈانس رکھا گیا ہے۔

Paramount And Warner Bros.Photo:INN
وارنر بردرس اور پیراماؤنٹ ۔تصویر:آئی این این

ہالی ووڈ میں کئی ماہ تک جاری رہنے والی کشمکش، قانونی رکاوٹوں اور شدید تنازع کے بعد  پیراماؤنٹ اسکائی ڈانس اور وارنر برادرز ڈسکوری کا تقریباً ۱۱۰؍ ارب ڈالر کا انضمام مکمل ہوگیا ہے ۔ اس تاریخی سودے کے نتیجے میں ایک نئی عالمی تفریحی کمپنی وجود میں آئی ہے جس کا نام  اسکائی ڈانس  رکھا گیا ہے۔ اس نئی کمپنی کے سربراہ ڈیوڈ ایلیسن ہوں گے، جبکہ میٹل کے سابق سربراہ یونن کریز شریک سربراہ کے طور پر کمپنی کے روزمرہ انتظام اور انضمام کے عمل کی نگرانی کریں گے۔ 
اس انضمام کے ساتھ ہالی ووڈ کے دو بڑے فلمی ادارے ایک ہی چھتری تلے آگئے ہیں۔ نئی کمپنی کے پاس  پیراماؤنٹ پکچرز اور وارنر برادرز اسٹوڈیوز کے علاوہ پیراماؤنٹ پلس، ایچ بی او میکس، سی بی ایس، سی این این اور متعدد کیبل نیٹ ورکس اور کھیلوں کے نشریاتی اثاثے بھی ہوں گے۔ اس کے علاوہ کمپنی کو دنیا کی مقبول ترین فلمی اور ٹی وی فرنچائزز کا وسیع ذخیرہ بھی حاصل ہوگیا ہے، جس میں ’’ ہیری پوٹر‘‘، ’’ڈی سی‘‘،’’ گیم آف تھرونز‘‘،’’ ٹاپ گن‘‘، ’’مشن: امپاسیبل‘‘،’’ اسٹار ٹریک‘‘ اور’’ اسپونج بوب‘‘  جیسے بڑے نام شامل ہیں۔  
یہ سودا آسانی سے مکمل نہیں ہوا۔ پیراماؤنٹ اور وارنر برادرز کے درمیان معاہدے تک پہنچنے سے پہلے کئی مہینوں تک سرمایہ کاروں، دیگر ممکنہ خریداروں اور امریکی ریاستی حکام کے درمیان شدید کشمکش جاری رہی۔ اس معاملے میں نیٹ فلکس سمیت دیگر فریقوں کی دلچسپی اور بولی کی جنگ نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنایا، جبکہ امریکہ کی ۱۲؍ ریاستوں کے اٹارنی جنرل نے مسابقت مخالف خدشات کی بنیاد پر انضمام کو روکنے کی کوشش کی۔ روئٹرز کے مطابق اس پورے عمل نے نئی کمپنی کے قیام کو ہالی ووڈ کے حالیہ برسوں کے سب سے بڑے اور متنازع کاروباری سودوں میں شامل کردیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:ارجنٹائنا کے شائقین نے میسی کی الوداعی تقریب میں’’اصلی گوٹ‘‘ کو میدان میں اتار دیا

امریکی محکمہ انصاف نے جون میں اس معاہدے کی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے اسے آگے بڑھنے کی راہ ہموار کردی تھی، جبکہ بعد میں مختلف ریگولیٹری اداروں سے بھی منظوری حاصل کی گئی۔ پیراماؤنٹ کے مطابق اس سودے کا عالمی سطح پر تقریباً ۷۰؍ دائرہ اختیار میں جائزہ لیا گیا۔ آخرکار امریکی ریاستوں کے ساتھ قانونی سمجھوتے اور دیگر ضروری منظوریوں کے بعد انضمام مکمل کرنے کی اجازت مل گئی۔  انضمام کے بعد نئی کمپنی کو پیراماؤنٹ یا وارنر برادرز ڈسکوری کے مشترکہ نام سے چلانے کے بجائے صرف  اسکائی ڈانس  کے نام سے متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ وہی نام ہے جو ڈیوڈ ایلیسن کی فلمی کمپنی سے منسلک رہا ہے اور جس نے ’’ٹاپ گن: میورک‘‘ اور ’’مشن: امپاسیبل‘‘ جیسی بڑی فلمی کامیابیوں میں کردار ادا کیا ہے۔
اس نئی کمپنی کا مقصد صرف دو بڑے اداروں کو یکجا کرنا نہیں بلکہ ایک ایسی عالمی تفریحی طاقت بنانا ہے جو نیٹ فلکس، ڈزنی اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ تخلیقی صلاحیت، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی سطح پر مواد کی ترسیل کو اپنی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بنائے گی۔ انضمام کے نتیجے میں فلمی صنعت کے ساتھ ساتھ اسٹریمنگ کے میدان میں بھی بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ پیراماؤنٹ پلس اور ایچ بی او میکس جیسے بڑے پلیٹ فارم ایک ہی کمپنی کے زیر انتظام آگئے ہیں، جبکہ مستقبل میں ان کی ٹیکنالوجی اور خدمات کو زیادہ مربوط بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
نئی کمپنی نے کم از کم۳۰؍ بڑی سنیما فلمیں سالانہ  ریلیز کرنے اور۱۸۰؍ سے زیادہ ٹی وی پروگرامز اور سیریز تیار کرنے کا ہدف بھی پیش کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اگلے تین برسوں میں کم از کم ۶؍ ارب ڈالر کی سالانہ ہم آہنگی اور بچت  حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔   اتنے بڑے انضمام کے ساتھ ملازمین اور تنظیمی ڈھانچے پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دونوں کمپنیوں کے بڑے پیمانے پر یکجا ہونے کے باعث بعض شعبوں میں ایک جیسے عہدوں اور کاموں کو ختم کرنے یا ضم کرنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ نئی انتظامیہ نے بھی ملازمین کو خبردار کیا ہے کہ کمپنیوں کو یکجا کرنے کے عمل میں مشکل فیصلے اور تنظیمی تبدیلیاں سامنے آسکتی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:اجے دیوگن کی’’دِرِیشیم ۳‘‘ نے دنیا بھر میں ۳۴۱؍ کروڑ روپے کا ہندسہ پار کرلیا

نئی کمپنی پر تقریباً ۸۰؍ ارب ڈالر کے قرض  کا بوجھ بھی موجود ہے، جس کے باعث اخراجات میں کمی اور کاروباری کارکردگی بہتر بنانا انتظامیہ کے لیے اہم چیلنج ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اتنے بڑے میڈیا گروپ کو کامیاب بنانے کے لیے صرف مشہور فلمی فرنچائزز کافی نہیں ہوں گی بلکہ اسٹریمنگ، اشتہارات، ٹیلی ویژن، کھیلوں اور عالمی مواد کی مارکیٹ میں بھی مضبوط کارکردگی دکھانا ہوگی۔ اس سودے کا ایک حساس پہلو یہ بھی ہے کہ  سی بی ایس نیوز اور سی این این اب ایک ہی نئی کمپنی کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس صورتحال نے میڈیا کی آزادی، ادارتی خودمختاری اور خبروں کے کاروبار پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ کمپنی نے ان خدشات کے جواب میں ادارتی آزادی کے لیے انتظامات کرنے اور خبروں کے شعبے میں مخصوص نگرانی کا نظام قائم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔  پیراماؤنٹ اور وارنر برادرز ڈسکوری کا انضمام محض ایک کاروباری سودا نہیں بلکہ ہالی ووڈ کے طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی ہے۔ دو تاریخی اسٹوڈیوز، بڑے اسٹریمنگ پلیٹ فارم، عالمی ٹی وی نیٹ ورکس، کھیلوں کے نشریاتی حقوق اور بے شمار مقبول فرنچائزز اب  اسکائی ڈانس  کے زیر انتظام ہوں گی۔ ڈیوڈ ایلیسن کے لیے یہ انضمام ایک غیر معمولی کاروباری کامیابی ضرور ہے، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ کمپنی کو تقریباً ۸۰؍ ارب ڈالر کے قرض، ممکنہ ملازمتوں میں کمی، اسٹریمنگ کے سخت مقابلے، مواد کی لاگت اور صارفین کی بدلتی ترجیحات جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ اگر اسکائی ڈانس ان اثاثوں کو مؤثر انداز میں یکجا کرنے میں کامیاب ہوگئی تو یہ نئی کمپنی آنے والے برسوں میں ہالی ووڈ کی سب سے طاقتور تفریحی سلطنتوں میں شمار ہوسکتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK