پینٹاگن نے دفاعی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تنازع کے باعث شدید قلت کا شکار ہتھیاروں اور گولہ بارود کی پیداوار اور امریکی فوج کو ان کی فراہمی میں تیزی لائیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے ایک داخلی دستاویز کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
EPAPER
Updated: August 09, 2026, 4:10 PM IST | Washington
پینٹاگن نے دفاعی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تنازع کے باعث شدید قلت کا شکار ہتھیاروں اور گولہ بارود کی پیداوار اور امریکی فوج کو ان کی فراہمی میں تیزی لائیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے ایک داخلی دستاویز کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
پینٹاگن نے دفاعی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تنازع کے باعث شدید قلت کا شکار ہتھیاروں اور گولہ بارود کی پیداوار اور امریکی فوج کو ان کی فراہمی میں تیزی لائیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے ایک داخلی دستاویز کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے ہفتہ کو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران امریکہ کے پاس پیٹریاٹ میزائلوں کا ذخیرہ ۱۷۰۰؍سے بھی کم رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سعودی، ترکی اور پاکستان معاہدہ کی عالمی میڈیا میں گونج
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی نائب وزیر دفاع اسٹیفن فائن برگ نے دفاعی کمپنیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کی رفتار میں نمایاں اضافہ کرنے کے منصوبے پیش کرنے کے لیے ۲۱؍ دن کی مہلت دی ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ کئی برسوں پر محیط پیداواری عمل اب پینٹاگن کی ضروریات کے مطابق نہیں ہے۔ فائن برگ نے کئی اقسام کے ہتھیاروں اور دفاعی سازوسامان کی فراہمی کو انتہائی اہم قرار دیا، جن میں نئی نسل کا این جی آئی انٹرسیپٹر میزائل، ناسامس فضائی دفاعی نظام، موبائل فضائی دفاعی ریڈار نظام، جدید پائلٹ تربیتی نظام اور خلا پر مبنی میزائل ٹریکنگ نظام شامل ہیں۔
اس سے قبل این بی سی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے خریداری کے ذمہ دار فائن برگ سے براہ راست رابطے کے بعد پینٹاگن کی قیادت نے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی قلت اور فراہمی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع کے دوران امریکہ نے ۱۵۰۰؍ سے زائد پیٹریاٹ میزائل استعمال کیے ہیں اور ان کی جگہ دوبارہ ذخیرہ کرنے میں دو سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ ایرانی حملوں کو روکنے کی کوشش میں امریکی فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخیرے میں اتنی کمی آئی کہ واشنگٹن کو یورپی اور ایشیائی صارفین کو میزائلوں کی فراہمی بھی مؤخر کرنا پڑی۔
یہ بھی پڑھئے:پہلی فلم میں ہیما مالنی ڈر کی وجہ سے ڈائیلاگ بھی صحیح نہیں بول پارہی تھیں
رپورٹ کے مطابق بعض امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ جنوبی کوریا اور جاپان غیر جوہری ذرائع سے ان کے دفاع کے لیے واشنگٹن کی صلاحیت پر سوال اٹھا سکتے ہیں اور اور اپنی سلامتی کے لیے زیادہ مؤثر دفاعی صلاحیت یقینی بنانے کی خاطر اپنے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی جانب مائل ہو سکتے ہیں۔۶؍اگست ۲۰۲۶ءکو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو ایک بار پھر اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے کو بھرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
گزشتہ ہفتے واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی محکمہ جنگ ایران کے ساتھ تنازع کے باعث کم ہونے والے ہتھیاروں کے ذخیرے کو دوبارہ بھرنے کے لیے ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس کو زیادہ فعال طور پر شامل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔