Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان، سعودی اور ترکی کا دفاعی معاہدہ ایران کیخلاف نہیں ہے: خاقان فیدان

Updated: August 09, 2026, 3:12 PM IST | İstanbul

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے واضح کیا کہ یہ دفاعی معاہدہ ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ علاقائی استحکام اور بڑھتے ہوئے جنگی خطرات سے نمٹنےکیلئے ہے۔

Turkish Foreign Minister Hakan Fidan. Photo: X
ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان۔ تصویر: ایکس

ترک وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدے ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو مکہ میں معاہدے پر دستخط کئے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ مکہ دفاعی معاہدہ تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب اور جوہری طاقت پاکستان کے ساتھ ترکی کو بھی اکٹھا کرتا ہے، جس کے پاس نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج اور تیزی سے بڑھتی ہوئی دفاعی صنعت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی، ترکی اور پاکستان معاہدہ کی عالمی میڈیا میں گونج

معاہدے کو علاقائی استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ بڑھتی ہوئی علاقائی غیر یقینی صورتحال اور جنگ کے خطرات کے وقت تعاون اور مزاحمت کو گہرا کرتا ہے۔ ترکی کے سرکاری انادولو ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے ترک کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اصرار کیا کہ تینوں ممالک کسی خاص ریاست کو اس وقت تک مخالف نہیں سمجھتے جب تک کہ وہ ان کے خلاف معاندانہ کارروائی نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے میں ایسا کچھ نہیں لکھا اور نہ ہی ہم نے ایسی کسی چیز پر دستخط کیے ہیں جو ایک مشترکہ خطرے کی وضاحت کرتا ہے۔ کوئی بھی ملک جو ہم پر حملہ نہیں کرتا وہ ہمارے لئےہدف نہیں ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK