جھوپڑ پٹی میں رہنے والے ماہانہ ۵۵۰؍ روپے کا پانی خریدنے پر مجبور

Updated: June 09, 2021, 8:36 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

پرجا فاؤنڈیشن کی سالانہ جائزہ رپورٹ میں انکشاف۔ ۷۲؍ فیصد بیت الخلا سیوریج لائن سے جوڑے نہیں گئے ہیں جبکہ ۵۸؍ فیصد ٹوائلیٹ میںبجلی سپلائی ندارد

A scene from the Praja Foundation`s online press conference..Picture:Inquilab
پرجا فاؤنڈیشن کی آن لائن منعقدہ پریس کانفرنس کا ایک منظر۔ تصویر انقلاب

ملک کی سب سے امیر بلدیہ کہی جانے والی ممبئی میونسپل کارپوریشن کی بد نظمی کا یہ حال ہے کہ  یہاں پانی کی یکساں سپلائی نہ ہونےسے آج بھی جھوپڑ پٹیوں میں  رہنے والوں کو ماہانہ ۵۰۰؍ تا ۵۵۰؍ روپے کا پانی ٹینکر اور دیگر ذرائع سے خریدنا پڑتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ’کچرےسے پاک ممبئی‘   کا دعویٰ کرنے والے شہر میں ۷۲؍ فیصد بیت الخلا سیوریج لائن سے  جوڑے نہیں گئے ہیں جبکہ ۵۸؍فیصد  ٹوائلیٹ میں بجلی سپلائی بھی نہیں ہے۔ غیر سرکاری تنظیم پرجا فاؤنڈیشن کی جانب شہری انتظامات پر جاری کردہ سالانہ جائزہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے۔ منگل کو زوم  ایپ پر منعقدہ پریس کانفرنس میں یہ رپورٹ جاری کی گئی۔ پرجا رپورٹ میںکووڈ پر قابو پانے کیلئے  بی ایم سی کی جانب سے وارڈ کی سطح پر قائم کئے گئے وار روم اور کووڈسینٹروں کی  ستائش کی گئی ہے۔
   پرجا فاؤنڈیشن کے ریسرچ اینڈ ڈیٹا ٹیم کے رکن یوگیش مشرا نے رپورٹ پیش کی ۔ انہوںنے بتایا کہ ’’ بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈ ( بی آئی ایس) کے اصولوں کے مطابق فی شہری کو یومیہ ۱۳۵؍لیٹر پانی  کی ضرورت ہوتی ہے۔ ممبئی میں اوسطاً  ۱۸۸؍  ایل پی سی ڈی پانی سپلائی کیاجاتا ہے جو کہ درکار مقدار سے ۵۳؍ ایل پی سی ڈی زیادہ ہے لیکن بی ایم سی کی جانب سے غیر جھوپڑ پٹی علاقوں ( نان سلم) کے شہریوں کو ۱۵۰؍ ایل پی سی ڈی ( ماہانہ ۱۹ء۴۴؍ روپے میٹر چارج سے) پانی سپلائی کیا جاتا ہے جو کہ ۱۵؍  لیٹر زیادہ ہے جبکہ جھوپڑ پٹی میں محض ۴۵؍ لیٹر پانی (ماہانہ ۴ء۸۵؍ روپے میٹر چارج سے)  سپلائی کیا جاتا ہے جو کہ بی آئی ایس کے معیار سے ۹۰؍ لیٹر کم ہے۔ پانی کی اس کم سپلائی کے سبب جھوپڑ پٹی  میں رہنے والوں کو  ٹینکر یا  دیگر ذرائع سے پانی خرید کر اپنی ضروریات کو پورا کرنا پڑتا ہے ۔ لہٰذا شہریوںکو ماہانہ ۵۰۰؍ تا ۵۵۰؍ روپے پانی خریدنے پر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ اگر ممبئی میں پانی کی یکساں سپلائی کی جائے تو ۱۴ء۵۴؍ روپے میں سبھی شہریوں کو یومیہ ۱۳۵؍  لیٹر پانی میسر ہو سکتا ہے ۔‘‘
  نمائندۂ انقلاب  نے جب یہ سوال کیا کہ جھوپڑپٹیوں میں پانی کم سپلائی ہونے کی کیا وجہ ہے ؟ کیا واٹر مافیا سرگرم ہے؟  پرجا کے بانی نتائی مہتا نے بتایا کہ’’ بی ایم سی کی جانب سے منصوبہ بندی کے فقدان کے سبب جھوپڑ پٹی میں کم پانی سپلائی کیا جارہا ہے ۔ اگر آبادی کے حساب سے میٹر لگا کر شہریوں کو پانی سپلائی کیاجائے تو اس مسئلہ کو حل کیاجاسکتا ہے۔ اس اعتبار سے شہریوں کو ۵۵۰؍ روپے کے بجائے ماہانہ ۱۴ء۵۴؍ روپے دینا زیادہ آسان ہوگا۔‘‘
  رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ۲۰۱۴ ء میں ممبئی میں ۲۴؍ گھنٹہ   پانی سپلائی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ۲۰۲۰ء میں شہریوں کو اوسطاً ۵ء۳۹؍  گھنٹہ پانی سپلائی کیا جارہا ہے۔
 یوگیش مشرا نے مزید بتایاکہ سوچھ سروے  ۲۰۱۹ ءکے جائزہ رپورٹ میں یہ بتایا گیا تھا کہ ممبئی میں بیت الخلا کے تعلق سے ۰ء۳؍ فیصد شکایتیں موصول ہوئیں لیکن جانچ کرنے پر پتہ چلا کہ ۲۰۱۹ء میں بی ایم سی کو بیت الخلا سے متعلق  ۲۵۵؍  شکایتیں اور ۲۰۲۰ء میں ۲۲۷؍ شکایتیں  موصول ہوئیں۔جائزہ رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیا ہے کہ ممبئی  کے ۵۸؍ فیصد عوامی بیت الخلا میں بجلی کی سپلائی نہیں ہے جس سے شہریوں کے تحفظ پر بھی سوالیہ نشان اٹھتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ۷۲؍ فیصد ٹوائلیٹ سیوریج لائن سے جوڑے نہیں گئے ہیں۔ اس تعلق سے استفسار کرنے پر پرجا فاؤنڈیشن کے  پروجیکٹ ڈائریکٹر ملند مہسکے نے بتایا کہ ’’ مقامی کارپوریٹر اور افسران کی عدم توجہی کے سبب عوامی بیت الخلا میں بجلی کی سہولت نہیں ہے اور سیوریج لائن سے انہیں جوڑا نہیں گیا ہے اگر وقفہ وقفہ سے ان کا جائزہ لیاجائے اور دیکھ ریکھ ہو تو شہریوں کو بہتر سہولت مہیا کرائی جاسکتی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK