مرکز نظام الدین کی بنگلے والی مسجد میں نماز کی اجازت

Updated: April 13, 2021, 12:59 PM IST | Farman Qureshi | New Delhi

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ، دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے رہنما خطوط کے مطابق مسجد کھولنے کا حکم ، ۲۰؍ افراد شرط کو خارج کردیا،کہا کہ جب کہیں اور یہ شرط نہیں تو مرکز میں کیوں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

 دہلی  ہائی کورٹ نے پیر کو ایک اہم فیصلے میں بستی حضرت نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز میں  واقع بنگلے والی مسجد کو رمضان المبارک میں عبادت کیلئے پوری طرح کھول  دینے کی ہدایت دی ہے۔ مسجد میں صرف ۲۰؍ افراد کو  عبادت کی اجازت دینے دہلی اور مرکزی حکومت کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے کورٹ نے کہا ہے کہ جب  ریاست میں کہیں اور یہ شرط نہیں ہے تو صرف مرکز نظام الدین میں کیوں؟کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ دہلی دیزاسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی کے رہنما خطوط پر مسجد کو عبادت کیلئے کھول دیاجائے۔   کورٹ نے کورونا کے پیش نظر مسجد میں مذکورہ رہنما ہدایات پر عمل کرانے کیلئے ایک ٹیم مقرر کی ہے، جس نے پیر کومرکز جاکر حالات کا جائزہ لیا ۔خبر لکھے جانے تک یہ ٹیم مرکز میں ہی موجود تھی۔اس کی  رپورٹ  کی بنیاد پر  منگل کو  عدالت حتمی فیصلہ سنائے گی۔  اس سے قبل  عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ رمضان کے پیش نظر مسجد میں رہنما اصولوں کے مطابق نماز کی ادائیگی کیلئے نظام الدین تھانے کے ایس ایچ او اور دہلی وقف بورڈ کے وکلا ء جمال اختر اور وجیہ شفیق مرکز کا دورہ کرکے رپورٹ پیش کریں۔  بورڈ کے وکلا نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ ابھی عدالت نے نماز کی ادائیگی کے لئے ہم لوگوں کو ہدایت دی ہے کہ ہم وہاں باہمی دوری،ماسک،سی سی ٹی وی کیمروں کا انتظام کرائیں اور سب انتظامات ہونے پر ایک رپورٹ تیار کرکے کل عدالت میں پیش کریں، تاکہ اس کی بنیاد پر عدالت حتمی فیصلہ سنائے۔ ایڈوکیٹ  جمال اختر نے بتایا کہ’’ ہم مرکز میں ہی ہیں اور آج سے ہی یہاں نماز شروع کردی گئی ہے۔کل اس تعلق سے عدالت کا واضح فیصلہ آجائے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK