بکروں سے لدے ٹرکوں کو چھوڑنےکیلئےلاکھوں روپے رشوت لینےکا پولیس پر الزام

Updated: July 31, 2020, 8:30 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

تاجروں نےریاستی حکومت سے ٹرکوں کو ممبئی میں داخل ہونے سے روکنے کی شکایت کی ، بکروں کے مرنے سے ہونے والےنقصان کا ہرجانہ دینے کا مطالبہ

Traders
جانوروں سے لدے ٹرک جنہیں پولیس نے روک لیا ہے۔ناراض تاجروں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

عیدالاضحی کے موقع پر جانوروں کی قربانی سے متعلق حکومت کی غیرواضح گائیڈلائن  کے سبب بکروں کے تاجروں کو زبردست نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بکروں سے لدے تقریباً ڈیڑھ سو ٹرک  شہر  میں داخلے کے منتظر ہیں ۔۴؍  دن سے ٹرکوں میں بند بکرے بھوک پیاس اور دم گھٹنے کے سبب مررہے ہیں  تاجروں نے ریاست کی سرحد پر تعینات پولیس اہلکاروںپر لاکھوں روپے رشوت لے کرٹرکوں کو چھوڑنے کا  الزام لگایا ہے ۔  اس تعلق سے بکرقصاب جماعت کی جانب سے وزیراعلیٰ ، وزیر داخلہ  اور پولیس کمشنر کو روانہ کئے گئے مکتوب میں شکایت کرتے ہوئے ہرجانہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
 اس سلسلہ میں بکر قصاب جماعت کے محمود نواز ٹین والا نے ہائی کورٹ کے وکیل تنویر نظام کے توسط سے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے ، وزیر داخلہ انل دیشمکھ اور ممبئی پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ کے علاوہ دیگر متعلقہ محکموں کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے یہ الزام لگایا ہے کہ ’’ عیدالاضحی  کے موقع پر بکروں کی خریداری کے سلسلہ میں حکومت کی واضح گائیڈ لائن نہ ہونے کے سبب ملک کی مختلف ریاستوں سے آنے والے تاجروں کو لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ ایک طرف قربانی کے موقع پر حکومت بکرے اور مینڈھے کے ٹرکوں کے داخلہ پر پابندی لگا رہی ہے  وہیں  عام دنوں میں دیونار میں ذبیحے کا سلسلہ جاری رکھا ہے ۔ جس طرح یہ سلسلہ جاری رکھا گیا ہے، اسی طرح قربانی کے موقع پر واضح گائیڈ لائن کے ساتھ بکروں کی خرید و فروخت اور ذبیحےکی اجازت بھی دی جاسکتی ہے ۔‘‘   انہوں نے راجستھان ، گجرات اور ملک کی دیگر ریاستوں سے سیکڑوں ٹرک میں موجودلاکھوں بکروں کے مرنے کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ سرحد پر ایک طرف پولیس گاڑیوں کو مہاراشٹر میں داخل ہونے نہیں دے رہی ہے لیکن دوسری طرف لاکھوں روپے رشوت دینے کے بعد بعض ٹرکوں کو چھوڑا بھی گیا ہے ۔
  اس ضمن میں وکیل تنویر نظامی کے مطابق ’’ اگر مسلم   لیڈران نے وقت سے پہلے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہوتی توریاست کے مسلمانوں کواس مذہبی فریضے کی ادائیگی میں مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK