ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے گھنشیام ہیرے نے اپنے والد کے ہیئر کٹنگ سلون میں کام کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنے خواب کو پورا کیا۔
EPAPER
Updated: January 28, 2026, 5:56 PM IST | Mumbai
ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے گھنشیام ہیرے نے اپنے والد کے ہیئر کٹنگ سلون میں کام کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنے خواب کو پورا کیا۔
ممبئی (آئی این این) : جب حالات خستہ ہوں تو بہت سے لوگ قسمت کو کوسنے لگتے ہیں۔ مگر ساکری تعلقہ کے چھڑویل پکھرون گاؤں کے ایک نوجوان نے اپنی محنت اور حوصلے کے دَم پر غربت کی رکاوٹوں کو پار کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے۔ اپنے والد کے ساتھ ہیئر کٹنگ سلون پر کام کرنے والے گھنشیام دھرم راج ہیرے نے این آئی ٹی وارنگل (تلنگانہ) میں پی ایچ ڈی تحقیق کےلئے داخلہ حاصل کر کے تعلقہ کا نام ملک بھر میں روشن کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایک سوال سے سیکوریٹی گارڈ کی زندگی میں انقلاب، ویڈیو ٹیم کا ’پروڈکشن لیڈر‘ بنا
گھنشام کی یہ حصولیابی کیوں خاص ہے؟
پُڈھاری‘ کی رپورٹ کے مطابق گھنشیام ہیرے کی ابتدائی اور کالج کی تعلیم نہایت کٹھن حالات میں ہوئی ہے ۔ چھڑویل پکھرون گاؤں کے گولڈی ہوٹل کے قریب اس کے والد دھرم راج ہیرے کی ایک چھوٹی سی ہیئر کٹنگ سیلون کی دکان ہے۔ گھر کا خرچ چلانے میں والد کو زیادہ مشکل نہ ہو، اسلئے گھنشیام نے کبھی کام کرنے میں شرم محسوس نہیں کی۔ وہ صبح سات بجے سے والد کے ساتھ دکان پر کام کرتا تھا اور صبح گیارہ بجے ’سی پاٹل سائنس کالج‘ تعلیم حاصل کرنے جاتا تھا۔ کاپیاں، کتابیں اور امتحان کی فیس وہ اپنی کمائی سے خود ادا کرتا تھا۔گھنشیام کی ذہانت بی ایس سی کیمسٹری میں کھل کر سامنے آئی، جہاں اس نے ’اے پلس‘ گریڈ کے ساتھ پہلا نمبر حاصل کیا۔ اس کے بعد اس کا انتخاب ممبئی کی ڈاکٹر ہومی بھابھا یونیورسٹی میں ایم ایس سی کے لئے ہوا۔ ممبئی میں رہتے ہوئے بھی چھٹیوں کے دوران وہ اپنے والد کے سیلون پر کام کرتا رہا۔ حال ہی میں اس نے این آئی ٹی وارنگل کے ریسرچرکے لئے داخلہ امتحان اور انٹرویو کامیابی سے مکمل کیا۔ اب وہ نامیاتی کیمسٹری کے شعبے میں ’پولیمر‘ کے موضوع پر تحقیق کرے گا۔
پڈھاری کی رپورٹ کے مطابق گھنشیام کے منتخب ہونے کی خبر گاؤں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ بہت سے لوگ اسے مبارکباد دینے دکان پر پہنچے، جہاں انہوں نے گھنشیام کو ہاتھ میں قینچی لئے کام کرتے دیکھا تو کئی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اپنے روایتی پیشے سے وابستگی اور عاجزی دیکھ کر سب اس کی تعریف کر رہے ہیں۔ مستقبل میں بیرونِ ملک سے پوسٹ ڈاکٹریٹ حاصل کر کے سائنسدان بننا اس کا خواب ہے۔ گھنشیام ہیرے کا کہنا ہے کہ ’’کوئی بھی کام چھوٹا نہیں ہوتا۔ والد کی مدد کرتے ہوئے تعلیم مکمل کرنے پر مجھے فخر ہے۔ اگر عزم اور مستقل مزاجی ہو تو دیہی علاقوں کے بچے بھی ناممکن کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘