این سی ای آر ٹی کی کتاب میںذات پات کے امتیاز کو مذہبی طورپر منظوری دینے والی منواسمرتی کی شمولیت کو آئینی اقدار پر حملہ قراردیا
EPAPER
Updated: June 30, 2026, 11:46 PM IST | Ali Imran | Nagpur
این سی ای آر ٹی کی کتاب میںذات پات کے امتیاز کو مذہبی طورپر منظوری دینے والی منواسمرتی کی شمولیت کو آئینی اقدار پر حملہ قراردیا
ونچت بہوجن اگھاڑی کے سربراہ پرکاش امبیڈکر نے این سی ای آر ٹی اسکول کی نصابی کتابوں میں منواسمرتی کو شامل کرنے کی تجویز پر سخت اعتراض کیا ہے اور مرکزی حکومت اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نصاب میں منوسمرتی کو شامل کرنا ہندوستانی آئین کی بنیادی اقدار پر حملہ ہے۔ پرکاش امبیڈکر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ این سی ای آر ٹی کی نصابی کتابوں میں منواسمرتی کو شامل کرنا آئینی اور سماجی مساوات کے لیے خطرہ ہےجس پر سوال کیا جانا چاہئے۔ بابا صاحب امبیڈکر نے منو سمرتی کو مسترد کیا تھا کیونکہ اس کتاب نے ذات پات کے امتیاز، چھوت چھات اور خواتین کی ثانوی حیثیت کو مذہبی منظوری دی تھی ۔
پرکاش امبیڈکر نے باباصاحب کی کتاب Annihilation of Caste کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امنو سمرتی صرف قواعد کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ ایک ذہنی اور سماجی تعمیر ہے جو درجہ بندی کی عدم مساوات، اچھوت اور سماجی ناانصافی کو جائز قرار دیتی ہے۔ بابا صاحب کا بنایا ہوا ہندوستانی آئین منو اسمرتی کے امتیازی اور خارجی سماجی فلسفے کی مکمل مخالفت میں کھڑا کیا گیا ہے۔ پرکاش امبیڈکر نے مزید کہا کہ ہندوستانی آئین فرد کی آزادی، مساوات، بھائی چارے اور انسانی وقار پر مبنی ہے ۔ آئین نے پیدائش پر مبنی مراعات کو شہریوں کے مساوی حقوق سے بدل دیا، قانون کے سامنے سب کو برابری فراہم کی اور سماجی انصاف کا ایک مضبوط ڈھانچہ تشکیل دیا۔ انہوں نے کہا کہ درجہ بندی کی عدم مساوات اور اچھوت کی روایت، جس کی بنیاد منوا سمرتی کے ذریعے ہندوستان میں رکھی گئی تھی، اب بھی بہت سے سماجی نظام میں نظر آتی ہے۔ ایسے میں نظام تعلیم کو پسماندہ معاشرے کی آزادی، سائنسی نقطہ نظر اور مساوات کی اقدار کیلئے کام کرنا چاہئے۔ پرکاش امبیڈکر نے دعویٰ کیا کہ اسکول کے نصاب میں منو اسمرتی کو شامل کرنے سے ذات پات اور صنفی جبر سے متعلق نظریہ کو معمول بنایا جائے گا ۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ یہ فیصلہ بابا صاحب کے خیالات سے متصادم ہے اور ساورکر اور گولوالکر کے نظریات کو تقویت پہنچاتا ہے ۔ پرکاش امبیڈکر نےمزید کہا کہ صحیح فکر، سماجی انصاف اور آئینی اقدار کو ہندوستان میں کلاس رومز میں پروان چڑھایا جانا چاہئے۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام کا اخلاقی محرک و رہنما ہندوستانی آئین ہونا چاہئے نہ کہ منوا سمرتی جیسا رجعت پسند اور ہندوستان مخالف نصاب ۔ بتادیں کہ این سی ای آر ٹی نے ویدک دور میں خواتین کی حیثیت کی وضاحت کے لیے اپنی نئی کلاس نہم کی سماجی علوم کی نصابی کتاب میں منو سمرتی کا ایک شلوک شامل کیا ہے۔ اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ ویدک دور میں خواتین کو معاشرے میں باعزت مقام حاصل تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی حیثیت میں اتار چڑھاؤ آیا اور بعد کے ادوار میں کمزور ہوا ۔ اس کتاب میں منوسمرتی کا شلوک شامل ہےجس کا مطلب ہے ’جہاں خواتین کی عزت ہوتی ہے، وہاں دیوتا بستے ہیں‘۔ اس میں خواتین کے احترام کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں یہ بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ خواتین کی حیثیت ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہی۔ وقت کے ساتھ تبدیلیاں آئی ہیں۔ اس باب میں وقت کے ساتھ ساتھ خواتین کے کردار میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ جیسے جیسے معاشرہ اور سیاست میں تبدیلی آئی، ویسے ویسے خواتین کی صورتحال بھی بدلی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہان کی حصہ داری کم ہوگئی مگر انہوں نے گھر، زراعت، کام اور معاشرے میں اپنا تعاون دینا جاری رکھا ۔اقلیتی اور پسماندہ حلقوں میں تشویش ہےکہ منواسمرتی کے ذات پات پر مبنی شلوک بھی جب داخل نصاب ہوں گے تواس سے طلبہ کے ذہن متاثر ہوسکتے ہیں۔