Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’مہا وکاس اگھاڑی لیڈران مہایوتی میں جانےکو بے تاب ہیں‘‘

Updated: June 27, 2026, 11:15 AM IST | Ali Imran | Nagpur

پرکاش امبیڈکر نے کہا ’’عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہیں اپوزیشن پارٹیاں چاہئے یا نہیں!‘‘

Prakash Ambedkar. Photo: INN
پرکاش امبیڈکر۔ تصویر: آئی این این

ونچت بہوجن اگھاڑی کے صدر پرکاش امبیڈکر نے ایک  پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس سمیت مہا وکاس اگھاڑی کے کئی  لیڈران  بی جے پی کے ساتھ جانے کیلئے بے تاب ہیں۔ انہوں نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں کیونکہ سیاسی نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ مہاوکاس اگھاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے امبیڈکر نے دعویٰ کیا کہ امبیڈکروادی تحریک کے علاوہ کوئی بھی بی جے پی کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اسے اقتدار سے نیچے نہیں اتار سکتا۔ وہ لوگ جو ہماری مدد چاہتے تھے، کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، سوشلسٹ پارٹی اور بائیں بازو کی پارٹیاں، ہماری طاقت کو اپنے ساتھ نہیں لینا چاہتی تھیں۔ اسی لئے انہوں نے ہم ’بی ٹیم‘ کی مہر لگانے کی کوشش کی۔ تاہم، آج وہی لوگ بی جے پی کی گود میں جا کر بیٹھے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: چندہ چوری معاملہ: سماجوادی پارٹی اور کانگریس کا بی جے پی پر حملہ

پرکاش امبیڈکر نے کہا کہ ’’یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مہا وکاس اگھاڑی اور کانگریس کے بہت سے لیڈر بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کیلئے بے تاب ہیں۔ حالیہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں، ونچت بہوجن اگھاڑی کے امیدوار آخر تک لڑے، لیکن کانگریس کے امیدوار بھاگ گئے، کچھ نے تو مقابلہ بھی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر سیاسی نظام مفلوج ہوجائے تو عام لوگوں کو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔ عوام کو اپوزیشن پارٹی چاہئے یا نہیں؟ یہ فیصلہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو پارٹیاں بی جے پی کے ساتھ نہیں جائیں گی وہی اصل اپوزیشن پارٹیاں ہیں، یہ معیار اب عوام کو طے کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: این سی ای آر ٹی کی نویں جماعت کی سوشل سائنس کی نئی کتاب سے آئین کی تمہید غائب!

پرکاش امبیڈکر نے الزام لگایا کہ ابھیجیت دپکے کی نوجوان نسل کے منصفانہ حقوق کیلئے شروع کی گئی تحریک کو ابتدا میں دو کروڑ فالوورز ملے۔ تاہم، جیسے ہی یہ پتہ چلا کہ ان کی ذات ’شودر‘ ہے، لاکھوں نوجوانوں نے اس تحریک سے خود کو الگ کر لیا۔ آج کی نوجوان نسل ملک کے اہم مسائل سے زیادہ ذات پات کو اہمیت دے رہی ہے۔ امبیڈکر نے دعویٰ کیا کہ نوجوانوں کی یہ ذہنیت بی جے پی کے حق میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ یہ اس کے زوال کا باعث بنے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK