Inquilab Logo Happiest Places to Work

اداکار پرکاش راج کے خلاف ہندو دیوتاؤں پر تبصرے کے حوالے سے ایف آئی آر درج

Updated: June 18, 2026, 5:03 PM IST | Chennai

ہندو دیوتاؤں اور رامائن پر تبصروں کے حوالے سے پرکاش راج کے خلاف بی جے پی لیڈر نے تروپتی میں شکایت درج کرائی، یہ شکایت پیر۱۵؍ جون کو جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے سامنے جی بھانو پرکاش ریڈی نے درج کرائی، جو بی جے پی لیڈر اور تروپتی تروپتی دیوستھانم (ٹی ٹی ڈی) ٹرسٹ بورڈ کے رکن ہیں۔

Actor Prakash Raj. Photo: INN
اداکار پرکاش راج۔ تصویر: آئی این این

اداکار پرکاش راج کے خلاف تروپتی کی ایک عدالت میں فوجداری شکایت درج کی گئی ہے، یہ شکایت ان تبصروں پر مبنی ہے جو انہوں نے رواں سال کے اوائل میں عوامی تقریبات کے دوران ہندو دیوتاؤں اور رامائن کے حوالے سے کیے تھے۔یہ شکایت پیر۱۵؍ جون کو جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے سامنے جی بھانو پرکاش ریڈی نے درج کرائی، جو بی جے پی لیڈر اور تروپتی دیوستھانم (ٹی ٹی ڈی) ٹرسٹ بورڈ کے رکن ہیں۔ یہ شکایت ان تبصروں سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر راج نے کیرالا لٹریچر فیسٹیول اور دیگر عوامی تقریبات کے دوران کیے تھے۔اپنی شکایت میں، بھانو پرکاش ریڈی نے کہا کہ۱۷؍ اپریل کو انہیں سوشل میڈیا پر ایک وڈیو گردش کرتی ہوئی نظر آئی، جس میں اداکار نے مبینہ طور پر بھگوان رام، لکشمن اور رامائن کے بارے میں تبصرے کیے۔ ان کا الزام ہے کہ یہ بیانات ’’توہین آمیز،‘‘ ،’’اشتعال انگیز،‘‘ اور ’’مخرب‘‘ نوعیت کے تھے اور ان سے ہندو برادری کے افراد میں غم اور غصہ پیدا ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: متھرا کی کرشن جنم بھومی مندر سے بھی اربوں روپے کا چندہ چوری

بعد ازاں بی جے پی لیڈر، جو دائیں بازو کی ہندو تنظیموں سے منسلک ہیں، نے استدلال کیا کہ اداکار کے تبصرے مذہبی عقائد اور جذبات کی توہین کے مترادف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان بیانات نے عوامی سکون کو متاثر کیا، مذہبی ہم آہنگی میں خلل ڈالا اور معاشرے کے ایک طبقے کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ساتھ ہی شکایت میں مبینہ تبصروں پر پرکاش راج کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: منظم سازشوں کے باوجود مسلم یونیورسٹیوں کی عمدہ کارکردگی

واضح رہے کہ یہ پیشرفت ایک جاری آن لائن مہم کے دوران سامنے آئی ہے جو پرکاش راج کو نشانہ بنا رہی ہے، جو نریندر مودی کی زیرقیادت مرکزی حکومت کے کھلے نقاد رہے ہیں اور اکثر سیاست، اکثریتی رجحان اور اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK