مولانا کلیم صدیقی اور رفقاءکے مالی لین دین کی جانچ ای ڈی سے کرانے کی تیاری

Updated: September 30, 2021, 8:49 AM IST | abdullah rashid | Lucknow

اے ٹی ایس کا دعویٰ، مولانا کے پاس سے۲۰؍ کروڑ روپے کا حساب نہیںملا، عمر گوتم کی گرفتاری کے بعد بھی ای ڈی نے دہلی میںواقع دفترپر چھاپہ مارا تھا

Maulana Kaleem Siddiqui.Picture:INN
مولانا کلیم صدیقی تصویر آئی این این

مشہور عالم مولانا کلیم صدیقی اور ان کے تین ساتھیوں سے ریمانڈ کے دوران پوچھ گچھ کے بعد اتر پردیش اے ٹی ایس کا دعویٰ ہے کہ مولانا کے ٹرسٹ میں کروڑوںکی فنڈنگ ہوئی ہے ، جس کے بارے میں مولانا اور انکے ساتھیوںنے کافی جانکاری دی ہے لیکن ۲۰؍ کروڑ روپے کے بارے میں کوئی معقول جواب نہ ملنے سے اے ٹی ایس نے اس معاملہ کی جانچ ای ڈی سے کرانے کی سفارش کی ہے ۔ اے ٹی ایس کی سفارش پر ای ڈی نے پولیس ٹیم سے معاملہ کی تفصیلات طلب کرکے اس کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔
 اس سے قبل تبدیلی مذہب کے معاملہ میں گرفتار عمر گوتم کے معاملہ میں بھی ای ڈی سے سفارش کی گئی تھی جس پر ای ڈی نے دہلی میں واقع عمر گوتم کے آفس کےعلاوہ لکھنؤ اور سنت کبیر نگر میں  چھاپے ماری کرکے تمام دستاویز اپنے قبضہ میںلے کر معاملہ کی جانچ شروع کردی تھی ۔   اے ٹی ایس ذرائع کے مطابق، مولانا کلیم صدیقی اور ان کے تینوں ساتھیوں سے ریمانڈکے دوران زیادہ تر سوال ٹرسٹ میں آئے کروڑوںکے فنڈکے بارے میں کئے جارہے ہیں ۔ بیشتر سوالات کا انہوں نے جواب بھی دیا ہے لیکن  ۲۰؍ کروڑ کے آس پاس کی رقم کا حساب نہیں مل سکا ہے ،اس لئے اب فنڈنگ کی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے جانچ کے لئےسفارش کی گئی ہے ۔
 ذرائع کے مطابق، ای ڈی اے ٹی ایس سے درج معاملہ کے تمام دستاویز طلب کرکے معاملہ کی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ساتھ ہی  اے ٹی ایس مولانا کےچاروں ساتھیوں سے ان کے حامیوں کے بارےمیں بھی جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریمانڈکے دوران مولانا کلیم اور انکے ساتھیوں کو آمنے سامنے بیٹھا کر بھی اے ٹی ایس پوچھ گچھ کرچکی ہے۔ اس معاملہ کی جانچ کے ایڈیشنل ایس پی سطح کے ایک افسر کررہے ہیں۔واضح رہے کہ اس سےقبل  یوپی اے ٹی ایس نے ۲۰؍جون کو دہلی کے جامعہ نگر سے عمر گوتم اور مولانا جہانگیر قاسمی کو گرفتار کیا تھا ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK