ایم آئی ایم ،راج بھر اور دیگر حلقوں سے مسلم نمائندگی کے مطالبہ کو سماجوادی اور کانگریس نےسیکولرطاقتوں کو کمزورکرنےکی سازش قراردیا۔
EPAPER
Updated: October 27, 2026, 10:55 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Luckhnow
ایم آئی ایم ،راج بھر اور دیگر حلقوں سے مسلم نمائندگی کے مطالبہ کو سماجوادی اور کانگریس نےسیکولرطاقتوں کو کمزورکرنےکی سازش قراردیا۔
اتر پردیش میں ۲۰۲۷ء کے اسمبلی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی قیادت اور نمائندگی کا معاملہ خاص کر مسلم وزیر اعلیٰ کے نام پر سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے ۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور اوم پرکاش راج بھر سمیت کچھ حلقوں کی جانب سے سماجوادی پارٹی سے مسلم قیادت کو زیادہ نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔دوسری طرف سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے لیڈروں نے اس مطالبے کو کو غیر دانش مندانہ قدم اورسیکولرطاقتوں کو کمزورکرنےکی سازش قراردیا ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اتر پردیش میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کو کس طرح مزید مؤثر بنایا جائے اور کیا سماجوادی پارٹی اپنی قیادت اور تنظیم میں مسلم چہروں کو زیادہ اہمیت دے گی ؟ اس بحث کے دوران مسلم وزیر اعلیٰ کے اعلان کا مطالبہ بھی سیاسی گفتگو کا حصہ بن رہا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اپنی قیادت کو آگے لائیں۔ ان کے مطابق مسلم نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، لیکن انہیں دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کےلئے کام کرنے تک محدود رکھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ملک میں اب ۱۰۰؍فیصد اتھنال سے گاڑیاں چلیں گی
ایم آئی ایم کے ترجمان شاداب چوہان نے سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادوسے مطالبہ کیا کہ اگر وہ مسلمانوں کے تئیں مخلص ہیں تو ۲۰۲۷ء کے اسمبلی انتخابات کیلئے مسلم وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان کریں۔ادھر، سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے سربراہ اور اتر پردیش حکومت کے کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر نے بھی اکھلیش یادو کو چیلنج کیا ہے۔
سماجوادی پارٹی کے قومی سیکریٹری محمد ارشد خان نے اسس ضمن میں’انقلاب‘ کے استفسار پرکہاکہ جمہوریت میں ہر مطالبے کا حق ہے، لیکن ۲۰۲۷ء کے اسمبلی انتخابات سے قبل ایسے معاملات پر غور ضروری ہے جن سے اپوزیشن کی یکجہتی اور ووٹوں کی تقسیم متاثر ہو سکتی ہے۔