• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قیمتوں میں اضافہ، اپریل تا ستمبر ہندوستان کا قدرتی گیس درآمدی بل ۲۳؍ فیصد بڑھا

Updated: October 26, 2026, 8:10 PM IST | New Delhi

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی آنے سے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی، یعنی اپریل سے ستمبر کے دوران، ہندوستان کا قدرتی گیس کی درآمد پر ہونے والا خرچ ۲۳؍ فیصد بڑھ کر۵ء۸؍ ارب ڈالر ہوگیا۔

Gas Supply.Photo:INN
گیس سپلائی۔ تصویر:آئی این این

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی آنے سے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی، یعنی اپریل سے ستمبر کے دوران، ہندوستان کا قدرتی گیس کی درآمد پر ہونے والا خرچ  ۲۳؍ فیصد بڑھ کر۵ء۸؍  ارب ڈالر ہوگیا۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ خرچ ۹ء۶؍ارب ڈالر تھا۔ یہ معلومات حکومت کے پیٹرولیم منصوبہ بندی و تجزیاتی سیل (پی پی اے سی) کے مرتب کردہ اعداد و شمار سے سامنے آئی ہیں۔
اگرچہ درآمدی بل میں اضافے کی بنیادی وجہ قیمتوں میں اضافہ رہا، تاہم چھ ماہ کے دوران مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدی مقدار میں بھی ۴ء۴؍ فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں ایل این جی کی درآمد بڑھ کر  ۱۸۱۸۹؍ ملین معیاری مکعب میٹر (ایم ایم ایس سی ایم) ہوگئی، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ مقدار ۱۷۴۱۴؍ ملین معیاری مکعب میٹر تھی۔

یہ بھی پڑھئے:پی وی سندھو اور لکشیا سین ہائلو اوپن میں ہندوستانی چیلنج کی قیادت کریں گے

ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں رکاوٹ کے باعث خلیجی خطے سے درآمدی کھیپوں کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اس صورت حال کے نتیجے میں تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کو امریکہ سے زیادہ ایل این جی درآمد کرنا پڑی، جس سے نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوگیا۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں ہندوستان میں قدرتی گیس کی گھریلو پیداوار ۴ء۴؍ فیصد گھٹ کر۱۶۸۰۴؍  ملین معیاری مکعب میٹر رہ گئی، جبکہ ایک سال پہلے اسی مدت میں یہ۱۷۵۸۵؍  ملین معیاری مکعب میٹر تھی۔ اس کمی کی وجہ آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن (او این جی سی) اور آئل انڈیا لمیٹڈ (او آئی ایل) کے پرانے ہوتے گیس ذخائر کو بتایا گیا ہے۔
دوسری جانب ملک میں قدرتی گیس کی مجموعی کھپت تقریباً مستحکم رہی۔ اپریل تا ستمبر کے دوران یہ کھپت۳۴۷۶۹؍ ملین معیاری مکعب میٹر درج کی گئی، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ۳۴۷۷۳؍  ملین معیاری مکعب میٹر تھی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کی اپریل تا ستمبر مدت میں قدرتی گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہندوستان کا درآمدات پر انحصار بڑھ کر  ۳ء۵۲؍فیصد ہوگیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ شرح ۱ء۵۰؍ فیصد تھی۔

یہ بھی پڑھئے:نیٹ فلکس کے صارفین اب پہلے سے کم وقت تک فلمیں اور سیریز دیکھ رہے ہیں

ستمبر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کا قدرتی گیس درآمد کرنے پر ہونے والا ماہانہ خرچ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریباً مستحکم رہتے ہوئے۲ء۱؍ ارب ڈالر رہا۔ تاہم، اس دوران درآمدی مقدار ۵ء۸؍ فیصد گھٹ کر۲۹۵۷؍  ملین معیاری مکعب میٹر رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال ستمبر میں یہ مقدار۳۲۳۳؍ ملین معیاری مکعب میٹر تھی۔یہ صورت حال عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کرگئی ہے، جس سے تنازع کا دائرہ بحیرۂ احمر تک پھیل گیا ہے۔ حوثی باغیوں نے ساحلی علاقے کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے، جس کے باعث سمندری نقل و حمل کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے بعد بحیرۂ احمر کا خطہ بھی عالمی سمندری تجارت کے لیے ایک اہم رکاوٹ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ان حالات نے توانائی کی عالمی ترسیل، درآمدی اخراجات اور ہندوستان کی قدرتی گیس کی فراہمی سے متعلق خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK