برطانوی شاہی خاندان کے چشم و چراغ، مستقبل کے بادشاہ پرنس ولیم نے سعودی عرب کا اپنا پہلا سرکاری دورہ شروع کر دیا ہے جسے سفارتی سطح پر نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ شہزادہ ولیم کو ریاض پہنچنے پر نائب گورنر ریاض شہزادہ محمد بن عبدالرحمان بن عبدالعزیز نےوالہانہ استقبال کیا۔
ریاض کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمان نے پرنس ولیم کاوالہانہ استقبال کرتے ہوئے خوش آمدید کہا۔ تصویر:آئی این این
برطانوی شاہی خاندان کے چشم و چراغ، مستقبل کے بادشاہ پرنس ولیم نے سعودی عرب کا اپنا پہلا سرکاری دورہ شروع کر دیا ہے جسے سفارتی سطح پر نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ شہزادہ ولیم کو ریاض پہنچنے پر نائب گورنر ریاض شہزادہ محمد بن عبدالرحمان بن عبدالعزیز نےوالہانہ استقبال کیا۔ دی نیوز انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق پرنس ولیم کا یہ دورہ سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
برطانوی سفارتی ذرائع کے مطابق شہزادہ ولیم کی حیثیت مستقبل کے بادشاہ کے طور پر اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے اور دونوں ممالک اس تعلق کو دیرپا دوستی میں بدلنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب برطانوی شاہی جوڑے پرنس اور پرنسس آف ویلز نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی جاری ہونے والی متنازع دستاویزات پر خاموشی توڑتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کردیا۔ کینسنگٹن پیلس نے بالآخر جیفری ایپسٹین سے جڑے جاری تنازع پر پرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن کا پہلا باضابطہ بیان جاری کردیا۔
گزشتہ روز پرنس اور پرنسس آف ویلز کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ میں اس بات کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ شہزادہ اور شہزادی ایپسٹین کی جاری ہونے والی دستاویزات میں ہونے والے انکشافات پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔ ترجمان کے مطابق ان کی تمام تر ہمدردیاں اور توجہ متاثرین کے ساتھ ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پرنس ولیم سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہوئے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب مستقبل کے بادشاہ اور ملکہ نے ایپسٹین اسکینڈل پر اپنی خاموشی توڑی ہے۔ پرنس اینڈریو کے جنسی مجرم سے تعلقات کے باعث یہ معاملہ شاہی خاندان تک جا پہنچا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں پرنس اینڈریو سے شاہی اعزازات واپس لے لیے گئے تھے، اب ایپسٹین فائلز کے جاری ہونے کے بعد ان کے ایپسٹین سے تعلقات بھی سامنے آئے ہیں۔ شاہ چارلس کے بھائی پرنس اینڈریو پر عائد الزامات میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ انہوں نے برطانیہ کے تجارتی ایلچی کے طور پر اپنے کردار کے دوران حساس معلومات اپنے متنازع دوست کے ساتھ شیئر کیں، جبکہ ان پر ایپسٹین کی فراہم کردہ خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات کا الزام ہے۔