پرینکا کاحکومت پر اپنے بچوں کا انسٹا گرام اکاؤنٹ ہیک کرانے کا الزام

Updated: December 22, 2021, 11:58 AM IST | Agency | Lucknow

کانگریس جنرل سیکریٹری کے مطابق فون ٹیپنگ تو چھوڑیئے، یہ میرے بچوں کے انسٹا گرام اکاؤنٹ تک ہیک کرارہے ہیں

Priyanka Gandhi.Picture:INN
لکھنؤ: پرینکا گاندھی کی میٹنگ ۔ تصویر: آئی این این

ج وادی پارٹی(ایس پی)سربراہ اکھلیش یادو کے ذریعہ بی جے پی کی یوگی حکومت پر فون ٹیپنگ  کا الزام لگانے کے ۲؍ دن بعد  منگل کو کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے حکومت پراپنے بچوں کے انسٹا گرام اکاؤنٹ ہیک کرانے کا الزام لگایا ہے۔ انتخابی تیاریوں   سے متعلق کانگریس کے امیدواروں کے انتخاب کے سلسلے میں پارٹی دفتر میں کانگریس عہدیداروں  سے میٹنگ کے بعد  پرینکا نے میڈیا  کےنمائندوں سے بات چیت میں حکومت پر  اپنے کنبے کی پرائیویسی  سے چھیڑ چھاڑ کرنے کاسنسنی خیز الزام لگایا۔اکھلیش کے حکومت پر فون ٹیپ کرانے کے الزام پر میڈیا نمائندوں کے ذریعہ پوچھے گئے سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے پرینکا نے کہا کہ ’فون ٹیپنگ تو چھوڑیئے، یہ میرے بچوں کے انسٹا گرام اکاؤنٹ تک ہیک کرارہے ہیں۔ حکومت کے پاس کوئی اور کام نہیں بچا ہے کیا؟  انہوںنے وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ پریاگ راج میں خاتون کو بااختیار بنانے کے سلسلے میں مختلف پروجیکٹوں کے سنگ بنیاد، افتتاح  اور خواتین کے بینک کھاتوں میں رقم ٹرانسفر کئے جانے کی پیش رفت کو محض انتخابی ہتھکنڈہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو بیدار کرنے کے لئے کانگریس کی ’لڑکی ہوں لڑسکتی ہوں‘ مہم سے ڈر کر وزیر اعظم نے یہ اعلانات کئے ہیں۔واڈرا نے کہا کہ ہم نے اترپردیش میں ’لڑکی ہوں لڑسکتی ہوں‘کا نعرہ دیا ہے۔ اس سے خواتین بیدار ہوئی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ میرا حق دو،اس لئے آج مودی جی کو بھی جھکنا پڑا  ہے۔پرینکا نے حکومت کے منشا پر سوال اٹھاتے ہوئے  خواتین کو مخاطب کرتے کہا : یوپی کی خواتین! میں نے آپ سے کیا کہا تھا کہ اپنی طاقت کو پہچانیں۔آپ کی طاقت کے سامنے وزیراعظم جھک گئے ہیں۔ وہ سمجھ گئے ہیں کہ خواتین کھڑی ہورہی ہیں۔ورنہ مودی نے گزشتہ پانچ سالوں میں یہ اعلانات کیوں نہیں کئے؟ یادر ہے کہ پریاگ راج میں منگل کو وزیر اعظم مودی نے اترپردیش میں خواتین کے ذریعہ چلائے جارہے اپنی  مدد آپ گروپ کی۱ء۶۰؍لاکھ خواتین کے کھاتوں میں ایک ہزار کروڑ روپے کی رقم جاری  کی اور خواتین کو بااختیار بنانے سےمتعلق پروجیکٹوں کا آغاز کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK