• Fri, 30 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاتما گاندھی آج بھی زندہ ہیں !

Updated: January 30, 2026, 2:02 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

۷۸؍ سال پہلے وہ آج ہی کا دن تھا جب گاندھی جی کومارا گیا تھا مگر نہ تو مارنے والے کو نہ ہی اُس کے متعصبانہ نظریہ کے حامیوں کو یہ اندازہ تھا کہ گاندھی مریں گے نہیں ۔ آج دیکھئے کہ گاندھی اُسی آب و تاب کے ساتھ زندہ ہیں جس آب و تاب کے ساتھ ۳۰؍ جنوری سے پہلے جی رہے تھے۔

INN
آئی این این
  ۷۸؍ سال پہلے وہ آج ہی کا دن تھا جب گاندھی جی کومارا گیا تھا مگر نہ تو مارنے والے کو نہ ہی اُس کے متعصبانہ نظریہ کے حامیوں  کو یہ اندازہ تھا کہ گاندھی مریں  گے نہیں ۔ آج دیکھئے کہ گاندھی اُسی آب و تاب کے ساتھ زندہ ہیں  جس آب و تاب کے ساتھ ۳۰؍ جنوری سے پہلے جی رہے تھے۔ دشمنانِ گاندھی کو یہ اندازہ بھی نہیں  تھا کہ موت کے بعد بھی وہ دُنیا کو امن و آشتی کا سبق دیتے رہیں  گے اور دُنیا ان سے سیکھتی رہے گی۔ نہیں  سیکھے گی تو پچھتائے گی اور جس کسی کو امن و آشتی کی اہمیت کا جب بھی احساس ہوگا وہ گاندھی ہی کی شرن میں  پناہ لے گا۔
گاندھی جی مر کر اَمر ہوگئے اور اَمر رہیں  گے کیونکہ وہ اپنی تعلیمات میں  زندہ ہیں  اور بدلتے وقت کے ساتھ اُن کی تعلیمات کی نئی تعبیر و تشریح دُنیا کو اُن سے قریب تر کررہی ہے۔ اس طرح گاندھی کی قدر و منزلت روز افزوں  ہے۔ ہمارے ملک میں  جب سے گوڈسے کی پوجا کرنے والوں  کو گاندھی دشمنی کے اظہار کی عادت ہوگئی یا چھوٹ مل گئی ہے تب سے صورت ِ حال بدلی ہوئی ضرور ہے مگر وہ بھی اس حد تک نہیں  بدلی کہ گاندھی پر سوال اُٹھانے والوں  کی تعداد مٹھی بھر سے زیادہ ہوگئی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ وہاٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے اس دَور میں ، جب کسی کو بدنام کرنا اور اُس کے تعلق سے شک و شبہ یا بدگمانی پیدا کرنا بہت آسان ہے، گاندھی کی شخصیت اور خدمات کے بارے میں  شک و شبہ بھی پیدا نہیں  کیا جاسکا۔ 
یہ اُس گروہ کی سراسر ناکامی ہے جو گوڈسے کا نام جپتا ہے۔ گاندھی سے اظہارِ برأت جدوجہد آزادی سے اظہار ِ برأت ہے جو اس لئے ممکن نہیں  ہے کہ انگریزوں  کی خاموش، بالواسطہ یا بلا واسطہ حمایت جو دَورِ غلامی میں  ممکن تھی، دورِ حاضر میں  ممکن نہیں  ہے جب قوم پرستی پر اصرار ہے۔ اسی لئے وہ لوگ بھی جو گاندھی کو دل سے نہیں  مانتے، زبان سے ماننے اور اُن کی پرتیما پر پھول نچھاور کرنے پر مجبور ہیں ۔ اس پس منظر میں  یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گاندھی جی خود کو ایسے بھی منواتے ہیں  اور ویسے بھی۔ یہ اُن کی سادا زندگی، سچی پکی روحانیت اور فکر و نظر کی بلندی ہے جس کے سبب آج بھی اُن کی شخصیت ناقابل تردید حقیقت کا درجہ رکھتی ہے۔ گاندھی کے اُصولوں  بالخصوص نظریۂ  عدم تشدد سے کسب ِفیض کرنے والوں  کی تعداد کسی دور میں  نہیں  گھٹی۔ ہر دَور میں  ایسے لاتعداد لوگ رہے ہیں  اور اب بھی ہیں  جو گاندھی کو اپنا نظریاتی اُستاد مانتے ہیں ۔ بیرونی ملکوں  میں  بہت سے لوگ ہندوستان کو گاندھی کی وجہ سے اور گاندھی کو اُن کی حیات و تعلیمات کی وجہ سے جانتے ہیں  اور بلاشبہ مانتے بھی ہیں ۔ 
وقت کی بے شمار خصوصیات میں  سے ایک یہ ہے کہ صحیح غلط کا فیصلہ کردیتا ہے۔ جس شخصیت، کتاب، نظریہ، فلسفہ، اُصول وغیرہ پر کئی زمانے گزر چکے ہوں  اور اُن کی اہمیت و افادیت میں  فرق نہ آیا ہو بلکہ نئی تعبیرات سامنے آئی ہوں ، اُس کو مسلّمہ یعنی تسلیم شدہ کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے۔ وقت کے ساتھ تشدد جتنا بڑھ رہا ہے، عدم تشدد کا نظریۂ گاندھی خود کو اُتنا ہی منوا رہا ہے۔ ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک جھوٹ کے مقابلے میں  سچ کی اہمیت کو یا بے ایمانی کے مقابلے میں  ایمانداری کی اہمیت کو ہر خاص و عام نے قبول کیا ہے۔ عالم یہ ہوتا ہے کہ جھوٹا اپنے سچا ہونے اور بے ایمان اپنے ایماندار ہونے کی قسم کھاتا ہے۔ اسی لئے ہمیں  لگتا ہے کہ گوڈسے حامی چاروں  طرف پھیل جائیں  تب بھی جیت گاندھی ہی کی ہوگی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK