Updated: January 30, 2026, 10:14 PM IST
| New Delhi
وزیراعظم نے ’’ترقی یافتہ اور خود کفیل ہندوستان ‘‘ کو گاندھی کا نظریہ قراردیا، راہل گاندھی نے بابائے قوم کو ’’ایک سوچ‘‘ قراردیا ، کہا: کبھی سامراجی طاقتوں نے،کبھی نفرت پھیلانے
والوں نے اور کبھی اقتدار کے گھمنڈ میں مبتلا افراد نے اسے مٹانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ اکھلیش کامنافرت کے خاتمہ کیلئے گاندھیائی سوچ کو زندہ کرنے کی ضرورت پر زور
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے راج گھاٹ پر پہنچ کر مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو ، نائب صدر سی پی رادھا کرشنن، وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی وزراء، لو سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، راجیہ سبھا میں حز اختلاف کے قائد ملکارجن کھرگے،تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیروں ، سیاسی لیڈروں اور عام شہریوں نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کو ان کی ۷۸؍ ویں برسی پرجمعہ کوخراج عقیدت پیش کی۔ یادرہے کہ مہاتما گاندھی کو ہندوتوا وادی شدت پسند ذہنیت کے حامل ناتھو رام گوڈسے نے۳۰؍ جنوری ۱۹۴۸ء کو گولی مار دی تھی ۔
وزیرِاعظم نریندر مودی نے راج گھاٹ پر پہنچ کر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد کہا کہ بابائے قوم کے اصول ہی ان کی حکومت کے ’’ترقی یافتہ اور خود مختار ہندوستان ‘‘کے عزم کے مرکز میں ہیں۔’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں وزیرِاعظم نے کہاکہ’’ باپو نے ہمیشہ سوَدیشی پر زور دیا، جو ترقی یافتہ اورآتم نربھر بھارت کے ہمارے عزم کا بنیادی ستون ہے۔‘‘ مودی نے کہا کہ مہاتما گاندھی کی شخصیت اور ان کے نظریات آنے والی نسلوں کو بھی فرض کے راستے پر چلنے کی تحریک دیتے رہیں گے۔
کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کو ان کی برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ مہاتما گاندھی شخصیت نہیں، ایک سوچ ہیں - وہ سوچ جسے کبھی سامراجی طاقتوں نے، کبھی منافرت کے نظریہ اور اقتدار کے گھمنڈ میں چور طاقتوں نے مٹانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ بابائے قوم نے آزادی کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بنیادی نعرہ دیا کہ اقتدار کی طاقت سے بڑی سچائی کی طاقت ہے، اور تشدد اور خوف سے بڑا عدم تشدد اور حوصلہ ہے۔ یہ سوچ مٹائی نہیں جاسکتی کیونکہ مہاتما گاندھی ہندوستان کی آتما میں امر ہوچکے ہیں۔‘‘واضح رہے کہ ملک بھر میں مہاتما گاندھی کے قتل کی برسی کو ’’یوم ِشہادت ‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے جس کے تحت تمام ریاستوں اور سرکاری اداروں میں پروگراموں کا انعقاد کر کے مہاتماگاندھی کو یاد کیا جاتاہے۔ جمعہ کو ان لوگوں نے بھی مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا جو بصورت دیگر ان کے محبت اوربھائی چارہ کے نظریات کے خلاف کام کرتے ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ جو ماضی میں مہاتما گاندھی کو ’’چتر بنیا‘‘ کہنے کی وجہ سے بری طرح پھنس چکے ہیں، نے ’’ایکس‘‘ پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’مہاتما گاندھی نے زبان، علاقے اور ذات پات میں تقسیم ملک کو متحد کرکے آزادی کی تحریک کو وسعت دی۔ سوَدیشی، آزادی اور صفائی کو ایک لڑی میں پرو کر عظیم ہندوستان کا تصور پیش کرنے والے مہاتما گاندھی کے خیالات ہمیں ہمیشہ تحریک دیتے رہیں گے۔‘‘ ملکارجن کھرگے نے گاندھی وادی نظریات سے وابستہ مشہور بھجن کے ذریعہ ان کی تعلیمات کو یاد کیا جس میں ہمدردی اور بے لوث خدمت پر زور دیا گیا ہے۔
اتر پردیش کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے مہاتما گاندھی نے موجودہ حالات میں نفرت کے خاتمے کیلئے گاندھی کے نظریات کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’سچائی پر گاندھی جی کےغیر متزلزل یقین اور انسانیت کیلئے ان کے دل میں بسنےوالی محبت جس کی ڈور میں رواداری، عدم تشدد، رحم دلی اور خیرسگالی کے اصول شامل ہیں، انہی گاندھیائی نظریات کو ایک بار پھر زندہ کر کےآج نفرت انگیزی پھیلانے والی پُرتشدد طاقتوں کو بے نقاب کرکے شکست دی جاسکتی ہے۔ یہ طاقتیں آج بھی نئے نقاب کے ساتھ ہمارے ملک اور معاشرے کیلئے نقصان دہ بنی ہوئی ہیں۔‘‘