آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام سےمتحد اور دشمنوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی، بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت اقدام کی وارننگ بھی دی
EPAPER
Updated: January 10, 2026, 4:52 PM IST | Tehran
آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام سےمتحد اور دشمنوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی، بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت اقدام کی وارننگ بھی دی
مغربی میڈیا کے ان دعوؤ ں کے بیچ کہ ایران میں جاری مظاہروں میں شدت آئی ہے اور وہ ۱۰۰؍ سے زائد شہروں میں پھیل گئے ہیں ، جمعہ کو ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام سے متحد رہنے کی اپیل کی اور انہیں غیر ملکی دشمنوں سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا ۔ جمعہ کو ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں خامنہ ای نے مظاہروں میں شرکت کرنےوالوں کو خبردار کیا۔ان مظاہروں کو ایرانی حکام غیر ملکی دشمنوں، بالخصوص امریکہ کی سازش کا نتیجہ قرار دے چکے ہیں۔ خامنہ ای نے اس بات کو دہرایا کہ بدامنی پھیلانےوالوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
خامنہ ای نے مظاہرین کو متنبہ کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا آلہ کار بن رہے ہیں اور ان کےمفاد میں کام کر رہے ہیں۔ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد سرکاری املاک کو نشانہ بنارہے ہیں، ایران کے سپریم لیڈر نے خبردار کیا کہ تہران ایسے افراد کو برداشت نہیں کرے گا جو ’’غیروں کے کرائے کے ایجنٹ‘‘ بن کر کام کریں۔ انہوں نے ٹرمپ پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ ان کے ہاتھ ایرانیوں کے ’’خون میں سنے ہوئے‘‘ ہیں۔
۲۸؍دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے درجنوں مظاہرین اور سیکوریٹی فورسیز کے ۴؍اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ مغربی میڈیا نے اب تک ۴۵؍ مظاہرین کے مارے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے بھی ’’غیر ملکی مفادات‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے آلہ کار بننے والوں کو متنبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ حکام ایسے افراد کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتیں گے۔ پیزشکیان نے بھی نشاندہی کی کہ مظاہروں کو ’’غیر ملکی دشمنوں‘‘ کی حمایت حاصل ہے۔ معاشی مشکلات کے خلاف یہ مظاہرے تہران کے دکانداروں کے غصے سے بھڑکے، جو ریال کی قدر میں شدید گراوٹ پر ناراض تھے۔ اس بیچ جمعرات کو کئی شہروں میں انٹرنیٹ بند کردیاگیا جو جمعہ کو بھی بند رہا۔ ایئر لائنز نے ملک کے اندر اور باہر کی پروازیں بھی منسوخ کر دیں۔ تاہم کارکنوں کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں مبینہ طور پر مظاہرین کو تہران اور دیگر علاقوں میں جلتی ہوئی آگ کے گرد حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ سڑکوں پر ملبہ بکھرا ہوا تھا۔