Updated: March 03, 2026, 12:58 PM IST
| New York
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ کی طرف راغب کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا، انہیں مہینوں تک ذاتی طور پر قائل کرتے رہے اور یہ یقینی بنانے کی کوشش کی کہ سفارتی مذاکرات فوجی حملے کے منصوبوں کو ناکام نہ کریں۔
اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ تصویر:پی ٹی آئی
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ کی طرف راغب کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا، انہیں مہینوں تک ذاتی طور پر قائل کرتے رہے اور یہ یقینی بنانے کی کوشش کی کہ سفارتی مذاکرات فوجی حملے کے منصوبوں کو ناکام نہ کریں، جیسا کہ نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے۔ رپورٹ، جس میں امریکی اور اسرائیلی حکام، سفارتکار، قانون ساز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے براہِ راست علم میں آنے والی باتیں شامل ہیں، بیان کرتی ہے کہ ایران پر حملے کا امریکی فیصلہ نیتن یاہو کے لیے ایک بڑی فتح تھی۔
جب نیتن یاہو ۱۱؍ فروری کو اوول آفس میں داخل ہوئے تو ان کا مقصد واضح تھا: سفارتی مذاکرات سے قطع نظر، ٹرمپ کو فوجی کارروائی پر قائم رکھنا جبکہ امریکہ ایران کے ساتھ عمان کے ذریعہ جوہری مذاکرات بھی شروع کر چکا تھا۔ ان دونوں لیڈروں نے تقریباً تین گھنٹے تک ممکنہ حملے کی تاریخوں اور مذاکرات سے ممکنہ حل کے کم امکانات پر بات کی۔
نیتن یاہو نے پہلی بار دسمبرمیں ٹرمپ کے مارا لاگو مقام پر ایران کے میزائل اڈوں کو نشانہ بنانے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ دو ماہ بعد، انہوں نے امریکہ کو ایران کی قیادت کے خلاف حملے کی مہم میں مکمل شریک بنانے میں کامیابی حاصل کی۔
دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی بہت گہری تھی۔ جب نیتن یاہو نے جنوری میں فیصلہ کیا کہ اسرائیل کو اپنے میزائل دفاعی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے مزید وقت چاہیے، تو انہوں نے ٹرمپ کو فون کرکے کسی بھی حملے میں تاخیر کی درخواست کی اور ٹرمپ نے اس پر رضامندی ظاہر کی۔
اگرچہ عمان کی ثالثی میں مسقط اور جنیوا میں تین جوہری مذاکرات ہوئے، آخری مذاکرات حملوں سے صرف دو دن قبل ختم ہوئے، لیکن رپورٹ کے مطابق کوئی حقیقی معاہدہ ایسا نہیں تھا جو ایک ساتھ ٹرمپ، نیتن یاہو اور ایرانی لیڈروں کو راضی کر سکتا۔ مذاکرات کے بعد، نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ٹرمپ کو بتایا کہ معاہدہ ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’کیرالا اسٹوری ۲‘‘ باکس آفس پر ناکام ہورہی ہے
ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی خواہش کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے اغوا میں کامیابی کے بعد ان کے اپنے اعتماد نے بھی بڑھا دیا، جسے وہ ایران کے خلاف ممکنہ کامیابی کی ایک مثال کے طور پر دیکھتے تھے۔ ٹرمپ کے اندرونی حلقے میں کچھ آوازیں مزاحم بھی ہوئیں، حتیٰ کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی طویل عرصہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی مداخلت پر شکوک کا اظہار کیا، لیکن آخر کار انہوں نے بھی کہا کہ اگر امریکہ کارروائی کرنے والا ہے تو اسے’’ بڑا اور تیز‘‘ ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:سنجو سیمسن کا اعتراف،میں نے روہت اور کوہلی کو دیکھ کر میچ فنش کرنا سیکھا
ہفتے کے روز شروع کیے گئے حملوں کو آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا گیا، جس میں کئی اعلیٰ ایرانی عہدیداروں سمیت سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے۔