Inquilab Logo Happiest Places to Work

اگر ضرورت پڑی تو ایران میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی بھی ممکن: ٹرمپ

Updated: March 03, 2026, 10:18 AM IST | New York

اس وقت دنیا میں خاصا کشیدہ ماحول ہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بیرونِ ملک جنگوں میں نہ الجھنے کے اپنے سابقہ مؤقف سے مختلف اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’اگر ضرورت پڑی‘‘ تو وہ ایران میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتے۔

Donald Trump.Photo:INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این

 اس وقت دنیا میں خاصا کشیدہ ماحول   ہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بیرونِ ملک جنگوں میں نہ الجھنے کے اپنے سابقہ مؤقف سے مختلف اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’اگر ضرورت پڑی‘‘ تو وہ ایران میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتے۔
انہوں نے نیویارک پوسٹ کو بتایاکہ ’’جیسا کہ ہر صدر کہتا ہے کہ’’زمین پر کوئی فوجی نہیں ہوگا، میں ایسا نہیں کہتا۔‘‘ امریکی صدر نے کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو فوجیوں کو میدانِ جنگ میں بھیجا جا سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
 تازہ حالات پر صدر ٹرمپ کے بیان سے قبل سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اطلاع دی کہ پیر تک امریکی فوج کے چار اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ہفتے کی صبح آپریشن ایپک فیوری کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے امریکی فوجیوں کو ممکنہ نقصان کا اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ ویڈیو اعلان میں انہوں نے کہا کہ ’’ایرانی حکومت مارنا چاہتی ہے۔ بہادر امریکی ہیروز اپنی جانیں گنوا سکتے ہیں اور ہمارے فوجی ہلاک یا زخمی ہو سکتے ہیں؛ جنگ میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔ ‘‘
 پیر کو شائع ہونے والے انٹرویو میں ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ آپریشن ایپک فیوری ’’مقررہ وقت سے کافی آگے‘‘ چل رہا ہے اور’’بہت جلد ختم ہونے والا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت کو ختم کرنے میں چار ہفتے لگنے کی توقع تھی، لیکن  ۴۹؍رہنما ’’ایک ہی دن میں‘‘ مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھئے:کوپا ڈیل رے: بارسلونا کوایٹلیٹیکو میڈرڈ کے خلاف بڑے چیلنج

تاہم  پیر کو ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ آپریشن ایپک فیوری چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہے گا، لیکن اگر یہ ’’اس سے کہیں زیادہ طویل‘‘ چلا تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے مستقل نمائندے ڈینی ڈینن نے کہا کہ اس میں جتنا وقت لگے، لگے۔

یہ بھی پڑھئے:سنیل شیٹی کا انکشاف: شاہ رخ کا اسٹارڈم الگورتھم سے بالاتر

بیرونِ ملک امریکہ کی کئی جنگوں میں ناکامیوں کے بعد امریکی عوام نئی مہم جوئی سے محتاط ہیں۔ روئٹرس-آئی پی ایس او ایس پول میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی۔ اس سروے میں صرف ۲۷؍ فیصد افراد نے ایران پر حملے کی حمایت کی  جبکہ 43 فیصد اس فیصلے سے متفق نہیں تھے اور ۱۳؍ فیصد غیر یقینی کا شکار تھے۔ ٹرمپ نے اسے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ ’’مجھے پولنگ کی پروا  نہیں۔ مجھے صحیح کام کرنا ہے۔ میرا خیال ہے کہ لوگ دراصل جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے بہت متاثر ہیں۔‘‘ انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ ایک ’’خاموش اکثریت‘‘ پر انحصار کر رہے ہیں جو ان کے بقول ’’حقیقی پول‘‘ میں نظر آئے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK