Inquilab Logo Happiest Places to Work

پوتن نے خامنہ ای کی شہادت کوسفاکانہ قتل قراردیا، چین اورشمالی کوریا کی بھی مذمت

Updated: March 02, 2026, 10:28 AM IST | Mascow

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے قتل کوانسانی اخلاقیات کے منافی اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، فوری جنگ بندی کی مانگ کی

Russian President Vladimir Putin. Photo: INN
روسی صدر ولادیمیر پوتن۔ تصویر: آئی این این

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے خامنہ ای کے قتل پر ایران کے صدر پیزشکیان سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ خامنہ ای کا قتل ’’انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک سفاکانہ قتل‘‘ ہے۔ بیجنگ نے بھی ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے کی پرزور مذمت کی ہے جبکہ شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے ’’غیر قانونی جارحیت‘‘ اور قومی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔ 
شمالی کوریا نے کہا کہ حملے میں   امریکہ کی شمولیت’’اندیشوں   کے عین مطابق‘‘ تھی کیونکہ امریکہ کی ’’چودھرانہ اور گینگ نما‘‘ فطرت کے باعث یہ ناگزیر تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے یہ ’’ جارحیت‘‘ کسی بھی صورت میں  قابلِ قبول نہیں ہے۔ 
اس سے قبل چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال اور ایران پر امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ حملوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں عالمی طاقتوں نے یکطرفہ فوجی کارروائیوں کی مشترکہ مخالفت کا اعادہ کیا ہے۔ 
چینی وزیر ِ خارجہ وانگ ای نے دورانِ گفتگو سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ جوہری مذاکرات جاری تھے، امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اسے عالمی سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف قرار دیا۔ وانگ ای نے اپنے روسی ہم منصب سے گفتگو میں واضح کیا کہ ایک خود مختار ملک کے رہنما کا قتل اور وہاں کی حکومت کی تبدیلی کے کیلئے عوام کو اکسانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ چین نے اپنے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکی جائیں۔ یکطرفہ اقدامات اور طاقت کے استعمال کی عالمی سطح پر مخالفت کی جائے۔ روسی وزیر ِ خارجہ سرگئی لاؤروف نے چینی موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک سلامتی کونسل اور دیگر عالمی فورمز پر اس جارحیت کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چین اور روس کا یہ قریبی رابطہ امریکہ اور اسرائیل پر عالمی دباؤ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK