Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلم میں چھیڑ چھاڑ کو محبت سمجھا جاتا تھا، آج ایسا کرنے والا جیل پہنچ جائے گا: مدھو

Updated: June 11, 2026, 12:55 PM IST | Mumbai

فلموں میں خواتین کو کس طرح پیش کیا جاتا ہے، یہ موضوع ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ حال ہی میں اداکار رام چرن کی فلم ’’پیدی‘‘ میں جھانوی کپور کو جس انداز میں دکھایا گیا، اس پر سوشل میڈیا پر کافی بحث چھڑ گئی۔

Madhoo.Photo:INN
مدھو۔ تصویر:آئی این این

فلموں میں خواتین کو کس طرح پیش کیا جاتا ہے، یہ موضوع ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ حال ہی میں اداکار رام چرن کی فلم ’’پیدی‘‘ میں جھانوی کپور کو جس انداز میں دکھایا گیا، اس پر سوشل میڈیا پر کافی بحث چھڑ گئی۔اسی بحث کے دوران ۹۰ء کی دہائی کی مقبول اداکارہ مدھو نے فلموں میں خواتین کی نمائندگی اور بدلتے ہوئے وقت کے بارے میں کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ 
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سنیما ہمیشہ معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے اور جیسے جیسے معاشرہ بدلتا ہے، فلموں کو بھی بدلنا پڑتا ہے۔ مدھو نے کہا’’آج جن چیزوں کو غلط سمجھا جاتا ہے، کبھی وہی چیزیں فلموں میں عام اور رومانوی تصور کی جاتی تھیں۔ میری سپر ہٹ فلم ’’پھول اور کانٹے‘‘ میں جو کچھ دکھایا گیا تھا، اسے اس وقت لوگوں نے محبت اور رومانس سمجھا تھا، لیکن آج کے دور میں وہی رویہ چھیڑ چھاڑ اور ہراسانی سمجھا جائے گا۔‘‘
جب مدھو سے پوچھا کہ کیا آج کی فلموں میں خواتین کو محض ایک شے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو انہوں نے جواب دیا’’یہ سوال صرف فلموں کا نہیں بلکہ معاشرے کی سوچ کا بھی ہے۔ فلموں کی کہانیاں اور کردار اسی طرح بدلتے ہیں جیسے لوگوں کی سوچ بدلتی ہے۔ اگر معاشرہ کسی چیز کو قبول نہیں کرتا، تو آہستہ آہستہ وہ چیز فلموں سے بھی غائب ہونے لگتی ہے۔‘‘
اداکارہ نے کہا’’۸۰ء اور ۹۰ء کی دہائی کی فلموں میں ریپ کے مناظر بہت عام ہوا کرتے تھے۔ تقریباً ہر دوسری فلم میں ایسے مناظر دیکھنے کو مل جاتے تھے۔ اس دور میں ان مناظر پر زیادہ سوالات نہیں اٹھائے جاتے تھے اور نہ ہی ناظرین کے درمیان کوئی بڑی بحث ہوتی تھی۔ لیکن آج کا وقت مکمل طور پر بدل چکا ہے اور اب ایسے مناظر کو پہلے کی طرح قبول نہیں کیا جاتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا’’آج اگر کسی فلم میں ایسی کوئی واردات دکھائی بھی جاتی ہے، تو اسے بہت احتیاط کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ اب فلم ساز اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کسی سنجیدہ موضوع کو دکھاتے وقت کوئی غلط پیغام نہ جائے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ایندھن اور توانائی بچانے کے لیے ہریانہ حکومت کے سخت کفایتی اقدامات

مدھو نے اپنی فلم’’پھول اور کانٹے‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا’’فلم کے ابتدائی گانوں میں ہیرو اور اس کے دوست کالج میں ایک لڑکی کا پیچھا کرتے ہیں، اسے تنگ کرتے ہیں اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ اس وقت ان مناظر کو رومانس کا حصہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اگر آج ایسا کچھ ہوتا تو وہ لڑکا جیل میں ہوتا۔‘‘انہوں نے کہا’’فلم میں میرا کردار آخرکار اسی لڑکے سے محبت کرنے لگتا ہے جو اسے مسلسل تنگ کرتا ہے۔ اس دور میں اسے ایک محبت کی کہانی سمجھا گیا، لیکن آج اگر کوئی لڑکا کالج یا کسی عوامی جگہ پر کسی لڑکی کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرے تو اسے غلط سمجھا جائے گا۔ آج کے لوگ اسے چھیڑ چھاڑ کہیں گے اور اسے جیل بھیج دیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ایندھن اور توانائی بچانے کے لیے ہریانہ حکومت کے سخت کفایتی اقدامات


مدھو نے کہا’’اس وقت کسی نے یہ نہیں کہا کہ فلم چھیڑ چھاڑ کو فروغ دے رہی ہے۔ بلکہ ناظرین نے فلم کو بے حد پسند کیا اور یہ ایک بڑی ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ لیکن آج کا ناظر پہلے سے زیادہ باشعور ہے اور ایسی چیزوں پر سوال اٹھاتا ہے۔‘‘اپنے بیان کے اختتام پر مدھو نے کہا’’سنیما ہمیشہ معاشرے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ جیسے جیسے معاشرہ بدلتا ہے، ویسے ویسے فلموں کی کہانیاں، کردار اور انہیں پیش کرنے کا انداز بھی بدلتا ہے۔ آج لوگوں میں خواتین کے احترام، تحفظ اور حقوق کے بارے میں زیادہ آگاہی موجود ہے، اس لیے فلموں کو بھی اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK