• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرس کی تیز رفتار توسیع سے مختلف خطرات بڑھنے لگے

Updated: October 06, 2026, 8:01 PM IST | New Delhi

ہندوستان میں مصنوعی ذہانت، بادل پر مبنی خدمات اور ڈجیٹل سہولتوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ڈیٹا سینٹر کے شعبے میں تیزی سے توسیع ہورہی ہے، تاہم اس تیز رفتار ترقی کے ساتھ بجلی کی دستیابی، سائبر سلامتی اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی سے متعلق خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔

Data Center.Photo:INN
ڈیٹا سینٹر۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان میں مصنوعی ذہانت، بادل پر مبنی خدمات اور ڈجیٹل سہولتوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ڈیٹا سینٹر کے شعبے میں تیزی سے توسیع ہورہی ہے، تاہم اس تیز رفتار ترقی کے ساتھ بجلی کی دستیابی، سائبر سلامتی اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی سے متعلق خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ یہ بات بیمہ دلال کمپنی ایون کی جانب سے جاری ایک تازہ رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
 رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں قائم ڈیٹا سینٹرس کی مجموعی صلاحیت ۲۰۳۰ء تک موجودہ سطح کے مقابلے میں چار گنا سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ نئی صلاحیت کے حصول کے لیے کئی منصوبوں پر پہلے ہی کام جاری ہے، لیکن ان منصوبوں کی تکمیل اور بروقت آغاز کے لیے بجلی کی مسلسل دستیابی ایک بنیادی چیلنج بنتی جارہی ہے۔ ایون کے مطابق اب بجلی کی فراہمی صرف ڈیٹا سینٹر چلانے کی ضرورت نہیں رہی بلکہ یہ اس بات کا فیصلہ کرنے والا اہم عنصر بھی بن رہی ہے کہ نیا مرکز  کہاں قائم کیا جائے اور کتنی تیزی سے فعال ہوسکے۔
 مصنوعی ذہانت سے متعلق کاموں میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں ڈیٹا سینٹرس کی توانائی کی کھپت بڑھ رہی ہے، جس سے بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔ ایون کے ہندوستان میں تجارتی خطرات کے حل کے شعبے کے سربراہ سشانت سرین کے مطابق بجلی کے قومی نظام سے رابطے میں رکاوٹ اور کنکشن میں تاخیر سے نمٹنے کے لیے منصوبہ ساز اب  مقام پر بجلی پیدا کرنے، بیٹری ذخیرہ کرنے اور مشترکہ توانائی نظام  جیسے متبادل طریقوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ ان اقدامات سے بجلی کی فراہمی میں تسلسل اور ڈیٹا سینٹر کی مضبوطی بہتر ہوسکتی ہے، تاہم ان کے ساتھ دیکھ بھال، عملی انتظام اور آگ لگنے جیسے نئے خطرات بھی پیدا ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’جیلر ۲‘‘ کے ٹریلر میں رتیک روشن کی ایک جھلک؟ مداحوں نے فوراًپہچان لیا

ایون نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرس کی بجلی کی طلب  ۲۰۳۰ء تک۱۶۵؍ فیصد  بڑھ سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ڈیٹا سینٹرس میں بجلی کی کثافت اور ٹھنڈا رکھنے کے نظام کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پانی کی قلت پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ ہے، وہاں پانی کی دستیابی ڈیٹا سینٹر کے قیام کے لیے ایک اہم سوال بن سکتی ہے۔ اس طرح کسی مقام کے انتخاب میں صرف زمین اور بجلی ہی نہیں بلکہ پانی، موسمی حالات اور ٹھنڈک کے نظام کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق ڈیٹا سینٹر کو صرف بجلی، پانی اور عمارت سے متعلق خطرات کا سامنا نہیں بلکہ سائبر حملے بھی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جارہے ہیں۔ جدید ڈیٹا سینٹر باہم منسلک کنٹرول نظام، برقی  اور ڈجیٹل نگرانی کے آلات اور بیرونی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے میں کسی سائبر حملے کے نتیجے میں نہ صرف ڈیٹا سینٹر کی خدمات متاثر ہوسکتی ہیں بلکہ آلات کو نقصان پہنچنے، نظام بند ہونے اور کاروباری سرگرمیوں میں طویل تعطل کا خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ ایون کے مطابق بجلی اور سائبر سلامتی اب ڈیٹا سینٹر کے خطرات کی منصوبہ بندی میں ایک دوسرے سے الگ نہیں رہیں بلکہ دونوں کو مربوط انداز میں دیکھنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ہرمن پریت کور نے تینوں فارمیٹس کی کپتانی چھوڑ دی

ایون کے مطابق بیمہ فراہم کرنے والی کمپنیاں اب ڈیٹا سینٹر کے خطرات کا جائزہ صرف تعمیر مکمل ہونے کے بعد نہیں لے رہیں بلکہ پورے دورانیۂ حیات کو سامنے رکھ کر خطرات کا تجزیہ کررہی ہیں۔ اس میں منصوبے کے ڈیزائن اور تعمیر سے لے کر بجلی کی مضبوطی، سائبر خطرات، نظام کے آغاز اور طویل مدتی کارروائی تک تمام مراحل شامل ہیں۔ڈیٹا سینٹر کے شعبے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایون کے  ڈیٹا سینٹر لائف سائیکل بیمہ پروگرام  کے تحت بیمہ کی گنجائش ۵ء۳؍ ارب ڈالر سے بڑھ کر ۵؍ارب ڈالرس ہوگئی ہے۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ہندوستان میں ڈجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کے اہداف کے ساتھ ڈیٹا سینٹر کی اہمیت مزید بڑھنے والی ہے۔ ایسے میں مستقبل کے منصوبوں کے لیے صرف زیادہ صلاحیت قائم کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ بجلی، پانی، موسمی حالات، سائبر سلامتی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق تمام خطرات کا پہلے سے جامع جائزہ لینا ہوگا۔ حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں ڈیٹا سینٹر کی صلاحیت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ۲۰۳۰ء تک اس میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے یہ شعبہ ملک کی مصنوعی ذہانت اور ڈجیٹل معیشت کے بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ بنتا جارہا ہے۔ مجموعی طور پر ایون کی رپورٹ اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ہندوستان کا ڈیٹا سینٹر انقلاب ایک طرف مصنوعی ذہانت اور ڈجیٹل معیشت کے لیے نئے مواقع پیدا کررہا ہے، تو دوسری طرف بجلی، پانی، سائبر سلامتی اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی اور مربوط حکمت عملی بھی ضروری ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK