Inquilab Logo

’’جموں خطہ میں ہوئے حالیہ حملے بی جے پی کے دعوؤں کی نفی کرتے ہیں‘‘

Updated: June 16, 2024, 8:44 AM IST | Srinagar

نومنتخب ایم پی آغا روح اللہ نے کہا ’’ دفعہ ۳۷۰؍ کی منسوخی سے شدت پسندی پر کوئی اثر نہیںپڑا کیونکہ اس دفعہ کا شد ت پسندی سے کوئی واسطہ نہیں تھا ‘‘

Member of Parliament Agha Roohullah
رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ

جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نےسنیچر کوکہاکہ دفعہ ۳۷۰؍ کی منسوخی سے نہ شدت پسندی ( ملی ٹنسی) پر کوئی اثر پڑا ہے اور نہ ہی اس دفعہ کا ملی ٹنسی کیساتھ کوئی واسطہ تھا۔انہوں نے کہا کہ خطہ جموں میں گزشتہ دنوں ہوئے حملے بی جےپی کے اُس بیانیہ کی نفی کرتے ہیں جو یہ لوگ دفعہ ۳۷۰؍کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیر میں امن و امان لانے سے متعلق کرتے آرہے ہیں اور یہ حملے بی جے پی حکومت کی ناکامی کی بھی بھر پور عکاسی کرتے ہیں۔ پلوامہ نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران انہوں یہ بات کہی ۔
 انہوں نے کہا کہ۲۰۲۴ء کے عام انتخابات میں حکومت سے زیادہ لوگوں نے اپوزیشن کو منڈیٹ دیا  اور اس طرح سے بی جے پی کی من مانی اور تاناشاہی کو کمزور کیا گیا ہے۔آج بی جے پی حکومت بنائے رکھنے کیلئے محتاج ہے، اس کا ثر نہ صرف حکومت کے کام کاج پر پڑے گا بلکہ آنے والے وقت میں اپوزیشن اور زیادہ مضبوط ہوگی اور اس سے ہمیں اُمید ملتی ہے کہ ہم مضبوط اپوزیشن کی حمایت سے جموں کشمیر کے عوام کی بات زور دار انداز میں کرسکتے ہیں۔
 جموں خطے میں ہوئے حالیہ حملوں کے بعد اسمبلی انتخابات موخر ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں آغا روح اللہ نے کہا کہ ’’بدقسمتی یہ ہے کہ یہ حملے ہوئےجو نہیں ہونے چاہئیں تھے، اب ان حملوں کو بہانہ بنا کر ایک فضا بنائی جارہی ہے کہ جموں وکشمیر کے عوام کو جمہوری حقوق سے دور رکھا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ چند ہفتے قبل ہی لوک سبھا الیکشن جموں کشمیر کے عوام نے ایک بے مثال انداز میں یہ بات بتائی کہ ہ اپنے جمہوری اداروں کو اپنے ہاتھوں میں دیکھنا چاہتے ہیں، اپنے فیصلے اپنے ہاتھوں میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اس ریاست کا انتظامیہ بھی اپنے ہاتھوں میں چاہتے ہیں، ان واقعات کا بہانہ بنا کر اگر حکومت جموں وکشمیر میںاسمبلی الیکشن نہیں کرواتی تو  یہ سخت نا انصافی ہوگی ۔
 ایک اور سوال کے جواب میں آغا روح اللہ نے مصنفہ اروندھتی رائے اور ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ چلانے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے کو دبانے اور اظہارِ رائے کو مجرمانہ بنانے کیلئے انسداد دہشت گردی کے قوانین کا استعمال غیر آئینی اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے پلوامہ کے این سی لیڈروں سے درخواست کی کہ وہ ان افراد کی فہرست فراہم کریں جنہیں قید کیا گیا ہے تاکہ وہ ان کا مسئلہ پارلیمنٹ میں اُٹھا کر ان کی رہائی کیلئے جدوجہد کرسکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK