Updated: September 28, 2026, 4:05 PM IST
| New Delhi
ہندوستانمیں پیک شدہ غذاؤں اور مشروبات پر زیادہ مقدار میں چینی، نمک اور چکنائی کی نشاندہی کے لیے سرخ رنگ کے انتباہی لیبل لگانے کی تجویز پر سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ عدالت نے اس معاملے میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا کی تجاویز، انتباہی لیبل کے ڈیزائن، رنگ، غذائی حدوں اور نفاذ کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا۔
سرخ لیبل۔ تصویر:آئی این این
ہندوستانمیں پیک شدہ غذاؤں اور مشروبات پر زیادہ مقدار میں چینی، نمک اور چکنائی کی نشاندہی کے لیے سرخ رنگ کے انتباہی لیبل لگانے کی تجویز پر سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ عدالت نے اس معاملے میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (FSSAI) کی تجاویز، انتباہی لیبل کے ڈیزائن، رنگ، غذائی حدوں اور نفاذ کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا۔
فوڈ صنعت سے وابستہ اداروں نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ مجوزہ سرخ ہیکساگون (چھ کونوں والے نشان) کو دوبارہ زیرِ غور لایا جائے کیونکہ ہندوستان میں سرخ رنگ پہلے ہی غیر سبزی خور غذاؤں کی شناخت سے جوڑا جاتا ہے۔ آل انڈیا فوڈ پروسیسرز ایسوسی ایشن (اے آئی ایف پی اے) نے ۲۴؍ ستمبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں کہا کہ عام ہندوستانی صارف سرخ رنگ کو غیر سبزی خور مصنوعات کی لازمی علامت سے جوڑنے کا عادی ہے، اس لیے ایک نمایاں سرخ غذائی وارننگ نئی الجھن پیدا کرسکتی ہے۔
تاہم موجودہ ایف ایس ایس اے آئی ضوابط کے مطابق غیر سبزی خور پیک شدہ غذاؤں کی شناخت کے لیے بھورے رنگ کا بھرا ہوا تکون نما نشان استعمال کیا جاتا ہے جبکہ سبزی خور مصنوعات کے لیے سبز نشان مقرر ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی نے پیکیج کے سامنے کی جانب واضح انتباہی نشان لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس میں ایسی مصنوعات پر ’’HIGH FAT‘‘، ’’HIGH SUGAR‘‘، ’’HIGH SALT‘‘ یا ’’HIGHLY SWEETENED BEVERAGE‘‘ جیسے انتباہ درج کیے جا سکتے ہیں جن میں متعلقہ غذائی اجزا مقررہ حد سے زیادہ ہوں۔ مقصد یہ ہے کہ صارف کو پیکٹ کے پچھلے حصے پر موجود پیچیدہ غذائی معلومات کا تفصیلی تجزیہ کیے بغیر ہی اہم غذائی خطرات کے بارے میں فوری معلومات مل سکیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’بگ باس ۲۰‘‘:ریتی تیواری کے رویے پر سلمان خان برہم
ایف ایس ایس اے آئی نے اپنی تازہ تجویز میں پہلے سے زیرِ غور دو مرحلوں پر مشتمل نفاذ کے بجائے ایک مرحلے میں وارننگ نافذ کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس کے مطابق اگر کسی ایک تشویش ناک غذائی جز کی مقدار مقررہ حد سے تجاوز کرے تو بھی متعلقہ سرخ وارننگ لگائی جاسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں پہلے بھی ایف ایس ایس اے آئی سے متعدد نکات پر وضاحت طلب کی تھی۔ عدالت نے خاص طور پر یہ جاننا چاہا کہ غذائی وارننگ کے لیے چینی، نمک اور سیر شدہ چکنائی کی حدیں کس سائنسی بنیاد پر طے کی گئی ہیں، لیبل کا سائز اور فونٹ کتنا ہوگا، اسے پیکٹ پر کہاں رکھا جائے گا اور مختلف غذائی اجزا کے لیے الگ الگ نشان ہونا چاہیے یا ایک مشترکہ نشان کافی ہوگا۔
عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ اگر کسی ایک غذائی جز کی زیادتی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے تو صرف دو یا اس سے زیادہ غذائی اجزا مقررہ حد سے بڑھنے والی مصنوعات کو پہلے مرحلے میں شامل کرنے کی کیا سائنسی بنیاد ہے۔ فوڈ کمپنیوں نے صرف سرخ رنگ کے معاملے پر ہی اعتراض نہیں کیا بلکہ مجوزہ غذائی حدوں پر بھی تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ صنعت کا کہنا ہے کہ وارننگ کے لیے مقررہ حدود سائنسی بنیاد پر طے ہونی چاہئیں اور موجودہ تجویز میں بعض مصنوعات پر حدوں کا اطلاق بہت وسیع ہوسکتا ہے۔ Reuters کے مطابق صنعت نے خاص طور پر چینی اور چکنائی کے لیے تجویز کردہ بعض حدوں کو کئی دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ سخت قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مراٹھواڑہ میں ۸؍ ماہ کے دوران۶۵۳؍ کسانوں نے خودکشی کی
دوسری جانب ایف ایس ایس اے آئی کا مؤقف ہے کہ سامنے کی جانب واضح وارننگ کا مقصد صارفین کو غذائی اجزا کے بارے میں زیادہ باخبر کرنا اور انہیں مصنوعات کا انتخاب کرتے وقت آسانی سے معلومات فراہم کرنا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں بچوں اور نوعمر افراد کی غذائی صحت پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔ ۱۰؍ستمبر کی سماعت میں عدالت نے اسکولوں میں غذائی خواندگی کو فروغ دینے کے لیے نصاب، ورکشاپس اور دیگر اقدامات کے بارے میں بھی مرکز سے وضاحت طلب کی تھی۔ عدالت نے اس بات پر بھی توجہ دلائی کہ اسکولوں کے آس پاس پیک شدہ اسنیکس کی دستیابی بچوں کے غذائی انتخاب پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔