کیرالا ہائی کورٹ نے فلم کے پروڈیوسر کو ہدایت دی کہ فلم کیخلاف جاری سماعت مکمل ہونے تک اسے ریلیز نہ کیا جائے ، ساتھ ہی سینسر بورڈ پر جم کر تنقیدیں کیں،فلم کا دوبارہ جائزہ لینے کی بھی ہدایت دی۔ فلم کے فرقہ وارانہ پیغام پراظہارِ تشویش
EPAPER
Updated: February 27, 2026, 9:09 AM IST | Thiruvananthapuram
کیرالا ہائی کورٹ نے فلم کے پروڈیوسر کو ہدایت دی کہ فلم کیخلاف جاری سماعت مکمل ہونے تک اسے ریلیز نہ کیا جائے ، ساتھ ہی سینسر بورڈ پر جم کر تنقیدیں کیں،فلم کا دوبارہ جائزہ لینے کی بھی ہدایت دی۔ فلم کے فرقہ وارانہ پیغام پراظہارِ تشویش
کیرالا ہائی کورٹ نے فرقہ وارانہ طور پر انتہائی اشتعال انگیز فلم ’’دی کیرالا اسٹوری ۲‘‘ کی ریلیز پر عبوری روک لگادی ہے۔ ہائی کورٹ نے فلم کے پروڈیوسر وپل شاہ کو ہدایت دی کہ اس کیس میں دلائل مکمل ہونے تک فلم کی ریلیز مؤخر رکھی جائےکیونکہ درخواست گزاروں کے خدشات حقیقی ہو سکتے ہیں۔جسٹس بیچو کورین تھامس نے مشاہدہ کیا کہ فلم کے ٹیزر اور ٹریلرس میں کیرالا کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلم کے عنوان میں ریاست کا نام استعمال کرنا اور یہ دعویٰ کرنا کہ فلم حقائق پر مبنی ہے، فرقہ وارانہ کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔ فلم کے کئی مناظر فرقہ وارانہ نوعیت کے ہیں۔ اس لئے ہم فی الحال اس کی ریلیز کی اجازت نہیں دے سکتے۔ واضح رہے کہ تین علیحدہ درخواستوں میں فلم کو عوامی نمائش کے لیے دیے گئے سرٹیفکیٹ کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ فلم ۲۷؍ فروری یعنی آج ہی ریلیز ہونے والی تھی لیکن اب اس پر پابندی لگ گئی ہے۔
فلم کے پروڈیوسر، وِپُل امرت لال شاہ، نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ فلم کی ریلیز کی مخالفت میں دائر درخواستیں ’’قبل از وقت، غلط فہمی پر مبنی اور ناقابلِ سماعت‘‘ ہیں۔شاہ نے اپنے حلف نامے میں مؤقف اختیار کیا کہ سنیماٹو گراف ایکٹ ۱۹۵۲ء کے تحت سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (سی بی ایف سی )ہی وہ واحد ماہر ادارہ ہے جو فلموں کا مکمل جائزہ لے کر انہیں عوامی نمائش کے لئے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا مجاز ہے۔انہوں نے کہاکہ ’’اس عدالت کا نگراں اختیار اس حد تک نہیں کہ وہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے ماہر ادارے کے فیصلے کی جگہ خود فلم کے مواد کا جائزہ لے۔‘‘ اس پر جسٹس کورین تھامس نے بالکل واضح طور پر کہا اور سینسر بورڈ کی بھی کلاس لے لی کہ جب یہ فلم اس کے پاس پیش کی گئی تھی تو کیا وہ سورہا تھا ؟ یا پھراس نے محض آنکھ بند کرکےفلم کو ریلیز کی سند دے دی ؟ فلم میں کئی مناظر انتہائی قابل اعتراض ہیں اور انہیں ریلیز کی اجازت دینے سے قبل سوبار سوچا جانا چاہئے۔عدالت نے سینسر بورڈ کو دوبارہ فلم دیکھنے اور فلم کا ریویو کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ پروڈیوسر نے یہ دعویٰ کیا کہ صرف دو منٹ کے ٹیزر کی بنیاد پر، مکمل فلم دیکھے بغیر، کسی سند یافتہ فلم کی نمائش نہیں روکی جا سکتی۔ واضح رہے کہ یہ فلم ہندوستان اور بیرونِ ملک ۱۸۰۰؍سے زائد سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی تھی لیکن اب اس پر روک لگ گئی ہے۔
واضح رہے کہ فلم کے پروڈیوسر نے بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران فلم کے ٹائٹل میں تبدیلی کی مخالفت کی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم میں تین ریاستوں کی کہانیاں پیش کی گئی ہیں، جن میں کیرالا بھی شامل ہے۔پروڈیوسر نے ٹائٹل کا دفاع کرتے ہوئے کہاتھا کہ فلم کیرالا کو کسی غلط انداز میں نشانہ نہیں بناتی۔ اس کے جواب میں درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ اگر متعدد افراد کو یکساں خدشات لاحق ہیں تو ان کی بات بھی سنی جانی چا ہئے۔ اس دوران ٹیزر کے حوالے سے بھی بحث ہوئی۔ سینسر بورڈ نے عدالت کو بتایا کہ اس نے نہ تو ٹیزر اور نہ ہی ٹریلر کو پاس کیا ہے، اس لیے سوشل میڈیا پر جاری کئے گئے مواد کے لیے وہ ذمہ دار نہیں ہے۔ فلم کے ٹریلر میں بنیادی طور پر تبدیلی مذہب اور لو جہاد جیسے مفروضات کو دکھایا گیاہے۔