سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ ہمدرد (وقف) لیبارٹریز کا مقبول مشروب ’’شربت روح افزا‘‘ اتر پردیش ویلیو ایڈڈ ٹیکس ایکٹ ۲۰۰۸ء کے تحت فروٹ ڈرنک/پروسیسڈ فروٹ پروڈکٹ کے طور پر درجہ بندی کا اہل ہے اور اس پر ۴؍ فیصد وی اے ٹی (ویٹ) لاگو ہوگا نہ کہ ۵ء۱۲؍ فیصد۔
EPAPER
Updated: February 25, 2026, 5:44 PM IST | Luckhnow
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ ہمدرد (وقف) لیبارٹریز کا مقبول مشروب ’’شربت روح افزا‘‘ اتر پردیش ویلیو ایڈڈ ٹیکس ایکٹ ۲۰۰۸ء کے تحت فروٹ ڈرنک/پروسیسڈ فروٹ پروڈکٹ کے طور پر درجہ بندی کا اہل ہے اور اس پر ۴؍ فیصد وی اے ٹی (ویٹ) لاگو ہوگا نہ کہ ۵ء۱۲؍ فیصد۔
بدھ کو سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا کہ ہمدرد لیبارٹریز (وقف) کا مشہور مشروب ’’شربت روح افزا‘‘ اتر پردیش ویلیو ایڈڈ ٹیکس ایکٹ ۲۰۰۸ء کے تحت فروٹ ڈرنک/پروسیسڈ فروٹ پروڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ جسٹس بی وی ناگارتھنا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے واضح کیا کہ اس پروڈکٹ کو شیڈول ٹو کے اندراج ۱۰۳؍ کے تحت درجہ بندی کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں اس پر ۴؍ فیصد کا رعایتی ویٹ لاگو ہوگا، نہ کہ ۵ء۱۲؍ فیصد کی شرح جو غیر درجہ بند اشیاء پر عائد ہوتی ہے۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم
عدالت عظمیٰ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے جولائی ۲۰۱۸ء کے فیصلے کو منسوخ کر دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ روح افزا کو عام بول چال میں ’’شربت‘‘ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ فروٹ ڈرنک۔ ہائی کورٹ نے ’’کامن پارلنس ٹیسٹ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی صارف فروٹ جوس مانگے تو اسے روح افزا نہیں دیا جائے گا، اور اس کے برعکس بھی یہی ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ پروڈکٹ میں پھلوں کا رس تقریباً ۱۰؍ فیصد شامل ہے اور لائسنس میں اسے ’’نان فروٹ شربت‘‘ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہند-امریکہ معاہدہ کیخلاف’کسان مہا چوپال‘
سپریم کورٹ کی قانونی تشریح
سپریم کورٹ نے ٹیکس حکام اور ہائی کورٹ کی منطق کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نتائج ’’قانونی اصولوں کے غلط اطلاق‘‘ پر مبنی تھے۔ بنچ نے مشاہدہ کیا کہ مختلف ریاستوں میں روح افزا کو مسلسل رعایتی درجہ بندی ملتی رہی ہے، جس سے کمپنی کا مؤقف مضبوط ہوتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہمدرد کی تشریح ’’نہ تو مصنوعی ہے اور نہ ہی ناقابل برداشت، بلکہ ایک حقیقی اور تجارتی طور پر تسلیم شدہ تشریح‘‘ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: این سی ای آر ٹی کی درسی کتاب میں عدالتی بدعنوانی اور زیر التوا مقدمات کا ذکر
تنازع کی بنیاد
یہ معاملہ ۲۰۰۷ء کے تشخیصی سال سے متعلق تھا، جب ہمدرد نے روح افزا کی فروخت پر ۴؍ فیصد ویٹ ادا کیا۔ ٹیکس حکام نے اسے غیر درجہ بند شے قرار دے کر ۵ء۱۲؍ فیصد ویٹ لاگو کرنے کی کوشش کی۔ پہلی اپیلیٹ اتھاریٹی اور کمرشیل ٹیکس ٹربیونل نے بھی کمپنی کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد معاملہ ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ تک پہنچا۔ خیال رہے کہ کورٹ میں ہمدرد کی نمائندگی سینئر ایڈوکیٹ اروند داتار نے کی، جبکہ ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ایڈوکیٹ بھکتی وردھن سنگھ پیش ہوئے۔