سپریم کورٹ نے این سی ای آر ٹی کی کتاب میں عدلیہ میں بد عنوانی کے حوالے سے اسباق شامل کرنے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئےاسے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی ادارے کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
EPAPER
Updated: February 25, 2026, 10:17 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے این سی ای آر ٹی کی کتاب میں عدلیہ میں بد عنوانی کے حوالے سے اسباق شامل کرنے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئےاسے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی ادارے کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
سپریم کورٹ نے بدھ کو آٹھویں جماعت کی این سی ای آر ٹی کی کتاب میں عدلیہ میں بدعنوانی کے حوالے اسباق شامل کئے جانے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے اسے ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیا۔سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا، ’’این سی ای آر ٹی آٹھویں جماعت کے بچوں کو عدلیہ میں بدعنوانی کے بارے میں پڑھا رہی ہے۔ یہ انتہائی تشویش کا معاملہ ہے۔‘‘ چیف جسٹس نے کہا، ’’میں کسی کو بھی ادارے کی بدنامی کی اجازت نہیں دوں گا۔ قانون اپنا کام کرے گا۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ایسا لگتا ہے کہ یہ کوئی منصوبہ بند اقدام ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: این سی ای آر ٹی کی درسی کتاب میں عدالتی بدعنوانی اور زیر التوا مقدمات کا ذکر
بعد ازاں جسٹس جوی ملویا باگچی نے اسے آئین کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ قرار دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس معاملے کا خود نوٹس لیں گے۔واضح رہے کہ ذرائع ابلاغ کے مطابق، کتاب میں معاشرے میں عدلیہ کے کردار پر دیے گئے اسباق میں ’’عدلیہ میں بدعنوانی‘‘ کا حصہ شامل ہے۔ کتاب میں مقدمات کے بڑے پیمانے پر التوااور ججوں کی کمی کو بھی عدالتی نظام کے چیلنج قرار دیا گیا ہے۔سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے بھی این سی ای آر ٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا،’’بد عنوانی بیشتر شعبوں میں ہے، لیکن صرف عدالتی بدعنوانی کومبینہ طور پر منتخب کیا گیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں نسل کشی کی تیاری کے مراحل کی تکمیل تشویشناک : جینوسائیڈ واچ
یاد رہےکہ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ نے اپنی جماعت ہشتم کی سماجی علوم کی کتاب میں عدلیہ کے اندر بدعنوانی پر ایک نیا حصہ شامل کیا ہے۔ نظرثانی شدہ باب ’’ہمارے معاشرے میں عدلیہ کا کردار‘‘(The Role of the Judiciary in Our Society)اب بھی عدالتوں کے نظامِ درجہ بندی اور انصاف تک رسائی کے تصور کو بیان کرتا ہے، لیکن اب اس میں نظام کی کمزوریوں، مثلاً بدعنوانی اور مقدمات کے بڑے پیمانے پر التوا کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کتاب میں مسئلے کی سنگینی کو اعداد و شمار کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق ملک بھر کی عدالتوں میں تقریباً۵؍ کروڑ ۳۳؍ لاکھ ۲۱؍ ہزار مقدمات زیرِ التوا ہیں۔ جن میں سپریم کورٹ میں تقریباً ۸۱؍ ہزار مقدمات، ہائی کورٹس میں تقریباً۶۲ء۴؍ لاکھ مقدمات اورضلع اور ماتحت عدالتوں میں تقریباً ۴؍ کروڑ ۷۰؍ لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں۔