Inquilab Logo Happiest Places to Work

تبدیلیٔ مذہب بل اسمبلی میں پیش ،پیر کو بحث متوقع

Updated: March 14, 2026, 11:51 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

اسمبلی میں جمعہ کو پیش کئے گئے بل میں مذہب تبدیل کرنے سے۶۰؍دن پہلےحکومتی نظام کو نوٹس دینا لازمی ۔ جبراً مذہب تبدیل کروانے والے کو ۷؍ سال جیل اور۱۵؍لاکھ روپے جرمانے کی سزا دینے کی تجویز، ملزم کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ بے گناہ ہے۔

Minister of State Dr. Pankaj Bhoir presented the bill in the Legislative Assembly.
وزیر مملکت ڈاکٹر پنکج بھوئیر نے قانون ساز اسمبلی میں اس بل کو پیش کرتے ہوئے

مہاراشٹر میں جبراً اور لالچ کی بنیاد پر مذہب تبدیل کرنے کی وارداتوں کا حوالہ دیتے ہوئے مہایوتی حکومت کی جانب سے جمعہ کو’’مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ ۲۰۲۶ء‘‘ پیش کیا گیا۔ بل میں مذہب تبدیل کرنے سے  ۶۰؍ روز قبل انتظامیہ کو نوٹس دینا لازمی ہے۔ اسکے علاوہ لالچ دے کر یا جبراً مذہب تبدیل کروانے والے کے خلاف مجوزہ بل میں ۷؍سال کی قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی تجویز کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس بل کے ذریعے زبردستی مذہب کی تبدیلی کے خلاف موثر اقدامات کئے جاسکیں گے۔ اس بل پر پیر کو بحث ہونے کی توقع ہے جس کے بعد وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اس بل پر بحث کا جواب دیں گے۔ حکومت کی جانب سے وزیر مملکت برائے داخلہ (دیہی) ڈاکٹر پنکج بھوئیر نےجمعہ کی شام ۵؍ بجکر ۶؍منٹ پر اسمبلی میں ۱۱؍ صفحات پر مشتمل اس بل کو مختصراً پیش کیا۔ انہوںنے کہاکہ ’’ہندوستان کے آئین نے مذہب کی آزادی کا حق دیا ہے۔ ایسے میں گزشتہ چند برسوں میں طاقت کے زور پر اور لالچ دے کر مذہب تبدیل کرنے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔اس سے سماج میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہونے کا اندیشہ پیدا ہو رہا ہے اور اس سے سماج کا توازن بھی بگڑ رہا ہے ،اسلئے اس بل کو پیش کیاجارہا ہے۔‘‘بل پیش کرنےکے بعد بی جے پی سینئر لیڈر ورکن اسمبلی سدھیر منگٹیوار نے بل پر تفصیلی بحث کروانے کی درخواست کی۔ 
  ایوان اسمبلی میں اس بل کوپیش کرنے کے بعدپیر کو اس بل پر بحث ہوگی جس کے بعد اسے اراکین اسمبلی اور کونسل کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کےپاس بھیجا جاسکتا ہےیا منظور یا نا منظور بھی کیا جاسکتا ہے۔اڑیسہ ، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، گجرات، اروناچل پردیش، ہماچل پردیش ، کرناٹک، اتراکھنڈ، تمل ناڈو وغیرہ جیسی ریاستیں جبری مذہب کی تبدیلی کو روکنے کیلئے پہلے ہی قانون بنا چکی ہیں۔ مہاراشٹر میں ایسا کوئی قانون نہیں تھا، اس لئے ایسا قانون بنایا جا رہا ہے۔ مہاراشٹر قانون نافذ کرنے والی۱۱؍ویں ریاست ہوگی۔
بل کے چند نکات
۔ جو شخص مذہب تبدیل کرے گا  اس کے  والدین، کوئی رشتہ دار ،کوئی دوسرا شخص جس کا خون، شادی یا گود لینے کا رشتہ ہو غیر قانونی تبدیلی کی شکایت پولیس میں درج کر سکتا ہے۔
۔ اگر پولیس جانچ میں شکایت کو درست پایا جاتا ہے تو پولیس سو موٹو کے طور پر مقدمہ درج کر سکتی ہے۔
۔ جبراً،لالچ یا دھوکہ دے کر مذہب تبدیل کرنے والوں کو ۷؍ سال تک قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو گی۔
۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قانون کے تحت اگر مذہب کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی جرم درج ہوتا ہے تو ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنا ہوگی۔
۔ غیر قانونی طریقے سے مذہب کی تبدیلی سامنے آتی ہے تو حکومت متاثرہ کی بازآبادکاری کیلئے مدد کر ے گی۔ 
۔  مذہب تبدیل کروانے والی تنظیموں کو حکومت کسی طرح کی کوئی مدد نہیں دے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK