Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریئل می ۱۶:نیا ڈیزائن دے کر بہت کچھ چھین لیا گیا ہے

Updated: June 15, 2026, 9:57 AM IST | Mohammed Habeeb | Mumbai

ڈیزائن کو نئے انداز سے تیار کرکے اس کے مٹیریل،ڈسپلے،ہارڈ ویئر اور کیمرہ میں کمی کی گئی ہے،کیمرہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

Real Me Phone.Photo:INN
ریئل می فون۔ تصویر:آئی این این
میموری اور دیگر الیکٹرانک پرزوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے قیمت کے زمرے میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے بعض مشکل فیصلےکریں۔ جیسے جیسے گزشتہ سال کے ماڈلز کا اسٹاک ختم ہو رہا ہے، کمپنیاں ان کی جگہ ایسے نئے فون متعارف کرا رہی ہیں جو اگرچہ کوئی بڑی نئی خصوصیت پیش نہیں کرتے، لیکن کسی نہ کسی حد تک پچھلے ماڈلز کی توقعات پوری کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ بڑی حکمت عملی ہو۔ اگر کمپنی مناسب شعبوں میں کمی کرکے بنیادی تجربے کو متاثر نہ ہونے دے تو قیمت برقرار رکھتے ہوئے ایک متوازن پروڈکٹ پیش کیاجا سکتا ہے۔چینی اسمارٹ فون کمپنی ریئل می نےاپنے نئے ریئل می ۱۶؍کےساتھ بھی کچھ ایسا ہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ کمپنی نے فون کو نیا ڈیزائن تو دیا ہے، لیکن سلیکان کاربن بیٹری کے علاوہ کوئی نمایاں عملی اپ گریڈ شامل نہیں کیا۔ 
 ڈیزائن
ریئل می ۱۶؍کا نیا ڈیزائن نوجوان صارفین کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اس عمل میں اس نے اپنی مڈ رینج شناخت کا کچھ حصہ کھو دیا ہے۔ فون میں اب سامنے اور پچھلے دونوں حصوں پر مکمل طور پر فلیٹ ڈیزائن دیا گیا ہے، جسےکمپنی ’ایئر ڈیزائن‘کا نام دیتی ہے۔اگرچہ ڈیزائن جدید اور صاف ستھرا محسوس ہوتا ہے، لیکن استعمال شدہ میٹریل فون کو کچھ حد تک سستا تاثر دیتا ہے۔ بٹنوں میں مناسب ٹریول نہیں ہے اور انہیں دبانے میں بھی تھوڑی دشواری محسوس ہوتی ہے۔نسبتاً کمپیکٹ سائز ہونے کے باوجود اس میں ۷؍ہزار ایم اے ایچ کی بڑی بیٹری فٹ کی گئی ہے۔
ڈسپلے
اس کا ڈسپلے ۱۴۴؍ہرٹزریفریش ریٹ جیسےفیچرز سے محروم ہے، لیکن بنیادی استعمال کے حوالے سے اچھی کارکردگی پیش کرتا ہے۔اگرچہ یہ اسکرین گزشتہ ماڈل کی خم دار اسکرین جتنی منفرد محسوس نہیں ہوتی، لیکن فلیٹ ڈیزائن کی وجہ سے عملی استعمال میں زیادہ آسان اور بیرونی ماحول میں کم توجہ بٹانے والی ثابت ہوتی ہے۔
سافٹ ویئر 
فون میں موجود ریئل می یو آئی ۷؍واضح طور پر آئی او ایس ۲۶؍ سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔ مقامی ایپس، آئیکنز، ٹوگلز اور تھیمز میں شیشے جیسے شفاف عناصر شامل کیے گئے ہیں۔ بعض ایپس مثلاً فوٹوز میں کمپنی نے کیپسول نما فلوٹنگ ٹیب بار بھی فراہم کیاہے، اگرچہ آئی او ایس میں نظر آنے والا مکمل گلاس ایفیکٹ یہاں موجود نہیں۔
ہارڈویئر
سادہ الفاظ میں کہا جائے تو کارکردگی کے لحاظ سے یہ فون اپنے مقابلے کے دیگر اسمارٹ فونز کے مقابلے میں پیچھے رہ جاتا ہے۔
 
 
کیمرہ
ریئل می ۱۵؍کے مقابلے میں سب سے نمایاں کمی کیمرہ سیکشن میں کی گئی ہے۔ بنیادی کیمرے میں اب آپٹیکل امیج اسٹیبلائزیشن (او آئی ایس)موجود نہیں، جو کم روشنی میں بہتر تصاویر اور ویڈیوز لینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اس کے علاوہ فون میں الٹرا وائیڈ کیمرہ بھی موجود نہیں ہے۔ اگرچہ الٹرا وائیڈ کیمرہ بہت شاندار نہیں تھا، لیکن کم از کم وسیع زاویے سے تصاویر لینے کی سہولت فراہم کرتا تھا۔
 
 
بیٹری
بھاری استعمال، گیمنگ اور کیمرے کے مسلسل استعمال کے باوجود فون ایک مکمل چارج پر ایک دن سے زیادہ آسانی سے چلتا ہے۔چارجنگ کی رفتار بھی مناسب ہے۔یہ۳۰؍منٹ میں ۴۲؍ فیصداور ایک گھنٹے میں ۸۲؍ فیصد چارج ہوسکتا ہے،جبکہ مکمل چارج ہونے میں ایک گھنٹہ ۳۱؍منٹ کا وقت لگتا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK