کانسٹیبل بھرتی امتحان کے دن امیدواروں کیلئے ٹرینوں کے ناکافی انتظام پر غصہ پھوٹ پڑا، پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی، ۶؍ گرفتار، ۵۰۰؍ کیخلاف کیس۔
پٹنہ کے پاٹلی پتر ریلوے اسٹیشن پر طلبہ کا جم غفیر دیکھا جاسکتاہے-تصویر:آئی این این
بہارپولیس ایکسائز کانسٹیبل بھرتی امتحان دینے جانے کیلئے اتوار کو علی الصباح پٹنہ کے پاٹلی پتر ریلوے اسٹیشن پر اکٹھا ہونےوالے طلبہ کا غصہ ٹرینوں کے ناکافی انتظام کی وجہ سے پھوٹ پڑا ۔وہ انتظامیہ کے ساتھ دودوہا تھ پر اُتر آئے جنہیں قابو میں کرنے اور حالات کو سنبھالنے میں پولیس کو دانتوں تلے پسینہ آگیا۔ شدید برہمی، احتجاج ،توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کے بعد پولیس کو آنسو گیس کے گولے داغنے اور ہوائی فائرنگ کرنی پڑی۔اس نے ۵۰۰؍ سے زائد نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کرلیا ہے جبکہ ۶؍ کو گرفتار کیاہے۔ بطور احتیاط اسٹیشن پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔
امیدواروں کے سفر کیلئے ناکافی انتظام
امتحان دو شفٹوں میں ہونا تھا اور ہزاروں امیدواردیر رات ہی ا سٹیشن پر پہنچ گئے تھے۔ ایگزام اسپیشل ٹرین میں چڑھنے کی افراتفری اوربھیڑ نے صورتحال کو خراب کردیا۔ ٹرینوں میں جگہ نہ ملنے یا ان میں چڑھنے میں ناکام رہنے والے ناراض امیدوار ٹرین کے سامنے بیٹھ گئے اور نعرے لگانے لگے۔ احتجاجیوں نےاس دوران ٹرین میں توڑ پھوڑ کی، پتھراؤ کیا اور پٹریوں کو نقصان پہنچایا۔ اسٹیشن پر کھڑی ٹرین کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، جس سے فرش پر شیشے بکھر گئے۔ ہنگامہ آرائی سے راجدھانی سمیت کئی دیگر ٹرینوں کی آمدورفت میں بھی متاثر ہوئی۔ اطلاعات کےمطابق واقعہ کے وقت ریلوے اسٹیشن کے احاطے میں تقریباً۲۵۰۰؍ امیدوار موجود تھے۔
ہنگامہ آرائی میں آئی جی بھی زخمی ہوگئے
صورتحال پر قابو پانے کیلئےپولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور ہوا میںکئی راؤنڈ فائرنگ کی ۔ بعد میںپولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور تصاویر کی بنیاد پر شرپسندوں کی شناخت کی اور ان میں سے ۶؍کو گرفتار کر لیا۔ ہنگامہ آرائی میں آئی جی جتیندر رانا کو بھی معمولی چوٹیں آئی ہیں جبکہ روپس پور تھانہ کےانچارج معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ احتیاطاً پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔
آئی جی جتیندر رانا نے بتایا کہ امیدواروں کا احتجاج ۲؍ سے۳؍ گھنٹے تک جاری رہا۔ پہلی شفٹ میں امتحان دینے والے امیدوار وقت پرامتحانی مرکز پہنچنے کیلئے پریشان تھے، جس کے باعث یہ حالات پیداہوئے۔ پتھراؤ میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ آنسو گیس اور فائرنگ کے بعد صورتحال پر قابو پالیا گیا۔جبکہ پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر تیاگ راجن نے کہا کہ ریلوے نے امیدواروں کیلئے پہلے ہی دو خصوصی ٹرینوں کا انتظام کیا گیاتھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ سماج دشمن عناصر نے مظاہرین کےدرمیان گھس کر پتھراؤ شروع کر دیا۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہاکہ بھیڑ کو طاقت کا کم سے کم استعمال کرکے منتشر اور امن بحال کیا گیا۔
عینی شاہد:ٹرینیں کم اور امیدوارزیادہ تھے
انتظامیہ کے ان دعوؤں کے برخلاف کہ کانسٹیبل بھرتی امتحان میں شرکت کیلئے جانےوالے طلبہ کی تعداد کو ملحوظ رکھتے ہوئے ٹرینوں کا خاطر خواہ انتظام کیاگیاتھا، پاٹلی پتر ریلوے اسٹیشن کے قریب دکان چلانے والے نے ایک شخص نے بتایاکہ’’ طلبہ بہت ناراض تھے۔ ہزاروں کی تعداد تھی اور ٹرینیں بہت کم تھیں۔ امیدواروں کی اتنی بڑی تعداد کیلئے یہ ناکافی تھیں اس لئے طلبہ نے ٹرینوں کو روک دیا اور پھر پتھراؤ شروع ہو گیا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’میری دکان کے سامنے بڑے بڑے پتھر پھینکے گئےاور اسے تباہ کر دیا گیا۔ میں بمشکل اپنی جان بچا کر بھاگا ہوں۔‘‘
۴۱۲۸؍ اسامیاں، ۱۶؍ لاکھ سے زیادہ امیدوار
انتظامیہ کے مطابق بھیڑ کو اسٹیشن کے احاطے سے ہٹا دیا گیا ہے اور امن و امان مکمل طور پر قابو میں ہے۔ تمام ٹرین خدمات معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔ انتظامیہ نے امیدواروں سے امتحان کے حوالے سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ملک میں بیروزگاری نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ ایکسائز کانسٹیبل امتحان کیلئے ریاست بھر میں۵۰۰؍ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ کل۴۱۲۸؍ اسامیاں پُر کی جانی ہیں جن کیلئے۱۶؍لاکھ سے زیادہ امیدوار امتحان میں شریک ہورہے ہیں۔یہ امتحان۱۷؍جون تک چلے گا۔