Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ:دو سال میں سرمایہ کاری میں بدعنوانی، دھوکہ دہی میں ۸۷؍ فیصد اضافہ: رپورٹ

Updated: May 29, 2026, 4:18 PM IST | Washington

امریکہ میں ۲؍ سال میں سرمایہ کاری میں بدعنوانی اور دھوکہ دہی میں۸۷؍ فیصد اضافہ ہوا ہے، امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سرمایہ کاری فراڈ۲۰۲۶ء کی سب سے بڑی سائبر واردات بن چکا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

 ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق صرف۲؍ سال کے دوران سرمایہ کاری اسکیموں کے ذریعے ہونے والا فراڈ۸۷؍ فیصد بڑھ گیا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کے اربوں ڈالرز لُٹ چکے ہیں۔  رپورٹ کے مطابق۲۰۲۳ءء میں سرمایہ کاری فراڈ سے۴؍ اعشاریہ ۶؍ ارب ڈالرز کا نقصان ہوا تھا جو  ۲۰۲۵ءمیں بڑھ کر۸؍ اعشاریہ ۶ء ارب ڈالرز تک پہنچ گیا۔ اسی دوران جعلی تکنیکی مدد اور کسٹمر سپورٹ فراڈ میں۱۳۱؍ فیصد اضافہ درج کیا گیا جس سے۲؍اعشاریہ ایک  ارب ڈالرز کا نقصان ہوا۔  

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے مقابلے میں چین کی خفیہ طاقت،سستی بجلی نے اے آئی جنگ کا رخ بدل دیا

اس کے علاوہ لاٹری، انعامی اسکیم اور وراثتی دھوکہ دہی کے معاملات بھی تیزی سے بڑھے ہیں جہاں نقصان۹۴؍ ملین ڈالرز سے بڑھ کر۱۹۴؍ ملین ڈالرز تک پہنچ گیا ہے۔ مزید برآں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ۶۰؍ سال سے زائد عمر کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے صرف سرمایہ کاری فراڈ میں ۳؍ اعشاریہ ۵؍ ارب ڈالرز سے زیادہ گنوائے تاہم اب نوجوان سرمایہ کار بھی جعلی شیئر تجاویز، فرضی منصوبوں اور دھوکہ دہی پر مبنی سرمایہ کاری اسکیموں کا شکار بن رہے ہیں۔  
دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق یہ بدعنوان عموماً سوشل میڈیا پیغامات، ای میلز یا فون کالز کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں اور غیر حقیقی منافع کا لالچ دے کر فوری رقم یا کرپٹو کرنسی منتقل کرواتے ہیں۔  ایف بی آئی کی رپورٹ میں شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے متعلقہ سرکاری اداروں سے تصدیق کریں اور مستند مالی مشیر سے رہنمائی ضرور لیں۔ بعد ازاں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار جعلی ویڈیوز اور نقلی شخصیات کے باعث ایسے فراڈ مزید خطرناک ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی قانون کے برخلاف صدر ٹرمپ کی تصویر ڈالر پر چھاپنے کی تیاریاں

واضح رہے کہ امریکہ میں بیشتر معمر افراد تنہارہتےہیں، ان میں اکثریت سبکدوش ملازمین کی ہوتی ہے، جن کی کل بچت بینکوں میں جمع ہوتی ہے، مناسب رہبری اور جدید اے آئی ٹول سے ناواقفیت کی بناء پر وہ اکثر اس قسم کی دھوکہ دہی کا شکار ہوجاتے ہیں۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK