مراٹھی میں سائن بورڈ کیلئے مزید ۶؍ ماہ کی مہلت کی درخواست مسترد

Updated: June 22, 2022, 10:12 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

تاجروں کی تنظیم نے اپیل کی تھی۔ دکانوں کے نام مراٹھی میں لکھنے کی آخری تاریخ ۳۰؍ جون۔ اس کے بعد خلاف ورزی پر بی ایم سی کی جانب سے کارروائی کا انتباہ

Following the direction of the city administration, the owners are also writing the names of their shops in Marathi. (File photo)
شہری انتظامیہ کی ہدایت کے بعد مالکان اپنی دکانوں کا نام مراٹھی میں بھی لکھ کر لگارہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

: ریاست  میں دکانوں کے نام مراٹھی میں جلی حرفوں میں لکھنے کیلئے مزید ۶؍ مہینوں کی مہلت دینے کی تاجروں کی تنظیم نے  درخواست کی تھی جسے بی ایم سی نے مسترد کردیا ہے۔ دکانوں کے بورڈ پر نئی پالیسی کے مطابق جلی حرفوں میں دکانوں کے نام مراٹھی میں لکھنے کی مہلت ۳۰ ؍جون کو ختم ہو رہی ہے، اس کے بعد جن دکانوں پر مراٹھی میں نام نہیں ہوں گے،  بی ایم سی ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔  واضح رہے کہ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی )نے تمام دکانوں کے نام دیگر زبانوں کے ساتھ مراٹھی میں جلی حرفوں میں لکھنا لازمی قرار دے دیا ہے۔بی ایم سی کے مطابق اگر دکان کا نام بورڈ پر ایک سے زیادہ زبانوں میں لکھا ہوا ہے تو سب سے زیادہ نمایاں نام مراٹھی میںلکھا ہونا لازمی ہے۔ دکانوں کے بورڈ کو تبدیل کرنے کے لئے بی ایم سی نے ۳۱؍ اپریل کا وقت طے کیا تھا لیکن دکانداروں اور تاجروں کی درخواست پر بورڈ پر نام تبدیل کرنے کی مدت میں ۳۰؍ جون تک کی توسیع کردی گئی تھی۔
 ’فیڈریشن آف ریٹیلرس ٹریڈرس ویلفیئر اسوسی ایشن‘ کےصدر  ورین شاہ کے مطابق مراٹھی میں نام لکھنے کی آخری تاریخ قریب ہونے کی وجہ سے تاجروں اور دکانداروں کی تنظیم نے بی ایم سی افسران سے ملاقات کرکے بتایا کہ شہر میں تقریباً ۵؍لاکھ دکانیں ایسی ہیں جن کے نام مراٹھی میں لکھنے کی ضرورت ہے اور اتنے بڑے پیمانے پر کم وقت میں نام لکھنے والے دستیاب نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ برسات کے دوران بھی نام تبدیل کرنا مشکل ہے اور کورونا وائرس  اور لاک ڈائون کی وجہ سے بھی بہت بڑے پیمانے پر تاجروں اور دکانداروں کو مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ ان سب باتوں کے پیش نظر بی ایم سی سے مزید ۶؍ ماہ کی مہلت طلب کی گئی تھی لیکن یہ درخواست قبول نہیں کی گئی۔
 بی ایم سی نے واضح کردیا ہے کہ ۳۰؍ جون کے بعد جن دکانوں پر جلی حرفوں میں مراٹھی میں نام نہیں پایا جائے گا،  ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
 مراٹھی میں دکانوں کے نام لکھنے کا معاملہ دراصل مہاراشٹر کی سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ ریاست میں خاص طور پر شیوسینا اور مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) مراٹھی ووٹ بینک کے لئے کوشاں رہتی ہیں اور میونسپل الیکشن سے قبل اسے مراٹھی ووٹروں کو رجھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا  ہے۔ اس سے قبل ۲۰۰۸ء میں ایم این ایس کے ذریعہ احتجاج کے بعد میونسپل کارپوریشن نے دکانوں کے بورڈ مراٹھی میں لگانے کی ہدایت دی تھی لیکن بامبے ہائی کورٹ کے حکم پر اسے یہ فیصلہ واپس لینا پڑا تھا۔
 ۲۰۱۷ء میں شیوسینا اور بی جے پی نے علاحدہ علاحدہ  الیکشن لڑا تھا جس میں شیوسینا نے مراٹھی کے موضوع کو تھامے رکھا تھا اور ۸۴؍ سیٹیں حاصل کی تھیں۔ اس کے بعد جولائی ۲۰۲۱ء میں مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی نے ایک بل پاس کرکے ’مہاراشٹر آفیشیل لینگویج ایکٹ ۱۹۶۴ء ‘ میں ترمیم کی جس کے تحت تمام انتظامی امور میں مراٹھی کو خصوصیت سے استعمال کرنے کو ضروری قرار دیا گیا۔ اس سے قبل ۲۰۲۰ء میں اسکولوں میں درجہ اوّل تا دہم مراٹھی زبان کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK