پیٹرول ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے راحت ملنے کا امکان نہیں

Updated: June 09, 2021, 12:56 PM IST | Agency | Mumbai/New Delhi

ماہرین کے مطابق اگر ایران پر عائد پابندیاں ختم نہیں کی گئیں تو آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمت فی بیرل۷۵؍ ڈالر کو عبور کرسکتی ہے جس سے قیمتوں کا گراف بھی لگاتاراوپر جائیگا

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

:پیٹرول کے بعد اب ڈیزل کی قیمت بھی۱۰۰؍ روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ گئی ہے۔ راجستھان کے شری گنگا نگرمیں ڈیزل۹۹؍ روپے۲۴؍ پیسے پر پہنچ گیا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو جلد ہی ڈیزل۱۰۰؍ روپے کو بھی عبور کرسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق  اگر ایران پر عائد پابندیاں ختم نہیں کی گئیں تو آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمت فی بیرل۷۵؍ ڈالر کو عبور کرسکتی ہے جو اس وقت۷۱؍ ڈالر کے قریب ہے۔ اس سےدونوں ایندھن کی قیمتوںکا گراف بھی لگاتار اوپر جائیگا۔ دوسری جانب یورپی ممالک میںزندگی معمول پر آرہی ہے جس سے خام تیل کی طلب بھی بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ روز خام تیل کی قیمتیںتیزی سے چڑھیں اور قیمت۲؍ سال کی بلند ترین سطح پرآگئی۔ ایسی صورتحال میں ، خام تیل مہنگا ہونا شروع ہوگیا ہے۔
’’ایران پر پابندیاں ختم کرکے خام تیل سستا ہوسکتا ہے‘‘
  آئی آئی ایف ایل سیکورٹیز  کے نائب صدر  انوج گپتا کا کہنا ہے کہ ہندوستان اپنی ضرورتو ں کیلئے ۸۵؍فیصد سے زیادہ خام تیل درآمد کرتا ہے۔۲۰۱۹ء  سے پہلے ، ہندوستان ایران کا دوسرا سب سے بڑا صارف تھا۔ ایران کے خام تیل کے بہت سے فوائد ہیں۔ اس کا ایک چھوٹا سفر کا راستہ ہے اور سامان کی نقل و حمل  پر زیادہ اخراجات نہیںآتے۔ صرف یہی نہیں ، یہ ہندوستان کو روپے میں خام تیل دیتا ہے ، جبکہ دوسرے ممالک ڈالر میں خام تیل کی تجارت کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں مہنگے ڈالر کی وجہ سےہندوستان کو خام تیل کے لئے زیادہ رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔انوج گپتا کا کہنا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کے حوالے سے اگلے ہفتے ایک اجلاس ہونے والا ہے۔ ایسی صورتحال میں ، اگر ایران پر عائد پابندیاں ختم کردی گئیں تو خام تیل۶۰؍ سے۶۵؍ ڈالر فی بیرل آسکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران پر پابندیوں میں نرمی کرتا ہے تو ہندوستان اس سے دوبارہ تیل کی درآمد شروع کرسکتا ہے۔ واضح رہےکہ ۲۰۱۹ء  سے ایران سے تیل کی درآمد روک دی گئی ہے۔
اگر ایران پر پابندیاں ختم نہیں کی گئیں تو کیا ہوگا؟
 پیٹرول یا ڈیزل کی قیمتیں بنیادی طور پر۴؍ عوامل پر منحصر ہیں۔ ان میں خام تیل کی قیمت ، روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت ، ٹیکس اور ان کی طلب کی سطح شامل ہیں۔ انوج گپتا کا کہنا ہے کہ اگر ایران سے پابندیاں ختم نہیں کی گئیں تو آنے والے دنوں میں خام تیل کی طلب میں اضافے کی وجہ سے  اس کی قیمت فی بیرل۷۵؍ ڈالر تک جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ ، امریکہ میں ویکسی نیشن کی تکمیل کے سبب ، معیشت مستحکم ہونا شروع ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے روپے کی قد ر بھی گھٹتی جارہی ہے۔ آئندہ ایک دومہینے میں  ڈالر کے مقابلے روپے ۷۵؍ روپے فی ڈالر تک جاسکتا ہے ، جو فی الحال۷۳ ؍ روپے کے قریب ہے۔ اس  وجہ سے بھی  پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا ہوسکتے ہیں۔
پیٹرول ڈیزل کے دام ۳؍روپے تک بڑھ سکتے ہیں
 انوج گپتا کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل۷۵؍ ڈالر فی بیرل یا اس سے زیادہ پر پہنچ جاتا ہے  تو پیٹرول اور ڈیزل کے دام بھی ۳؍ روپے تک بڑھ سکتے ہیں۔ایسی صورتحال میں توقع ہے کہ ایران پرپابندیوں کے خاتمے کے بعد ہی  راحت مل سکے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK