Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسعود پزشکیان کے استعفے کی افواہیں، ایرانی صدر نے خود تردید کی

Updated: June 02, 2026, 10:35 AM IST | Agency | Tehran

میں میدان میں ڈٹا ہوا ہوں اور کسی بھی واقعے کیلئے تیار ہوں: پزشکیان نے اپنی ذمہ داریوں کے تئیں ثابت قدم رہنے کا عزم ظاہر کیا۔

Iranian President Masoud Peshkeshian.Photo:INN
ایرانی صدر مسعود پزشکیان۔ تصویر:آئی این این
 ایرانی صدارتی دفتر نے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے سے متعلق  خبروں کی صحت کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسعود پزشکیان معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ایرانی صدر نے خود براہ راست بیانات جاری کئے جن میں انہوں نے ملک کو درپیش چیلنج کے باوجود اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔یہ تردید ان رپورٹس اور افواہوں کی گردش کے بعد سامنے آئی ہے جن میں ایران کو درپیش پیچیدہ سیاسی اور معاشی حالات کے تناظر میں مسعود پزشکیان کے دستبردار ہونے یا استعفیٰ دینے کے امکان کا ذکر کیا گیا تھا۔
 
 
ایرانی میڈیا کی جانب سے نقل کئے  گئے بیانات میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ میں میدان میں ڈٹا ہوا ہوں اور کسی بھی واقعے کیلئے تیار ہوں۔ انہوں نے موجودہ مرحلے کے دوران اپنا کام جاری رکھنے اور اپنی ذمہ داریوں سے وابستہ رہنے پر زور دیا۔ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران مشکلات سے بھرے راستے پر گامزن ہے۔ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ ایران کو معاشی، سیاسی اور سیکوریٹی کی سطحوں پر چیلنج درپیش ہیں۔ ایرانی صدر نے بحرانوں سے نمٹنے میں اپنی حکومت کے طریقہ کار پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایرانی عوام کے سامنے مسائل کو ان کی اصل شکل میں پیش کرتے ہیں۔ اس بیان سے مسعود پزشکیان نے موجودہ چیلنج کی نوعیت کے بارے میں عوامی رائے عامہ کے ساتھ سچائی اور شفافیت کی ضرورت پر زور دیا۔
 
 
بڑھتا ہوا دباؤ
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی حکومت کو معاشی حالات، گزشتہ مہینوں کے دوران ملک میں ہونے والی جنگ کے اثرات اور اس کے ساتھ ساتھ کئی متنازع معاملات کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے جاری رہنے کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی انفو اور میڈیا رپورٹس نے پزشکیان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھا دی تھیں۔ تاہم بعد میں ایرانی صدارتی دفتر نے فوری طور پر ان قیاس آرائیوں کی قطعی تردید کر دی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK