• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس نے اپنے ٹینکر کی ضبطی کو اکیسویں صدی کی بحری قزاقی قرار دیا

Updated: January 08, 2026, 8:01 PM IST | Moscow

روس نے امریکہ پر بحرِ اوقیانوس میں روسی پرچم بردار تیل بردار جہاز کو قبضے میں لے کر بحری قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور اکیسویں صدی کی بحری قزاقی کا الزام عائد کیا ہے۔ امریکہ نے اس اقدام کو پابندیوں کے نفاذ کا حصہ قرار دیا، جبکہ روس نے اسے بین الاقوامی قانون کے منافی اور ناقابلِ جواز قرار دیا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

روس نے امریکہ پر کھلی ’’بحری قزاقی‘‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے، جب امریکی افواج نے بحرِ اوقیانوس میں ایک روسی پرچم بردار تیل بردار جہاز پر سوار ہو کر اسے قبضے میں لے لیا۔ روسی اسٹیٹ ڈوما کی بین الاقوامی امور کمیٹی کے چیئرمین لیونید سلوٹسکی نے امریکہ پر بحری قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے اسے اینگلو سیکسنز کی جانب سے اکیسویں صدی کی بحری قزاقی قرار دیا۔ سلوٹسکی نے مزید کہا کہ پابندیاں کسی جہاز کو ضبط کرنے کا جواز نہیں بن سکتیں۔ 
روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے کہا:’’۱۹۸۲ءکے اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر کے مطابق، کھلے سمندروں میں جہاز رانی کی آزادی لاگو ہوتی ہے، اور کسی بھی ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دیگر ریاستوں کے دائرہ اختیار میں باضابطہ طور پر رجسٹرڈ جہازوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرے۔ ‘‘امریکی یورپی کمانڈنے ایک بیان میں کہا کہ اس نے دی میرینیرا نامی جہاز کو روکا، جو پہلے بیلا-ون کے نام سے جانا جاتا تھا، جس کا تعلق وینزویلا سے تھا، اور اس کے عملے کو حراست میں لے لیا۔ روس نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ گرفتار عملے کے ارکان کے ساتھ انسانی سلوک کرے اور ان کی جلد وطن واپسی کو یقینی بنائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے امریکہ سے۶۶؍ بین الاقوامی تنظیموں کو نکالنے کے حکم نامے پر دستخط کردیا

امریکی سدرن کمانڈ نے ضبط کئے گئے جہاز کو’بے ریاست، پابندیوں کا شکار ٹینکر‘ قرار دیا جو’غیر قانونی سرگرمیوں ‘میں ملوث تھا۔ اب تک امریکہ وینزویلا سے منسلک چار جہاز ضبط کر چکا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بدھ کو کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ تمام ’شیڈو فلیٹ‘ جہازوں کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کا عمل جاری رکھے گی، جن کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ تیل کی غیر قانونی ترسیل میں ملوث ہیں۔ یہ پابندیاں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وینزویلا کی نکولس مادورو حکومت کے خلاف دباؤ کی مہم کا حصہ تھیں، جو بعد ازاں وینزویلا پر امریکی حملے اور مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریز کے اغوا پر منتج ہوئیں۔ تاہم، امریکہ اپنی مہم کے جواز کیلئے ایک مستقل بیانیہ پیش کرنے میں ناکام رہا ہےچاہے وہ منشیات کے خلاف جنگ ہو، اپنے خطے میں روسی اور چینی اثر و رسوخ کا مقابلہ ہو، یا وینزویلا کے عوام کو مادورو حکومت سے آزاد کرانے کا دعویٰ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK