• Sat, 10 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مودی کے ٹرمپ کو فون نہ کرنے پر ہندوستان امریکہ تجارتی معاہدہ تعطل کا شکار

Updated: January 09, 2026, 7:03 PM IST | New Delhi

ایک پوڈ کاسٹ کے دوران ہاورڈ لٹنک نے کہاکہ ’’میں نے ذاتی طور پر یہ ڈیل طے کی تھی لیکن اس کے لیے پی ایم مودی کو صدر ٹرمپ کو فون کرنا پڑا۔ ہندوستان نے اسے منظور نہیں کیا اور پی ایم مودی نے فون نہیں کیا۔

Modi And Trump.Photo:INN
مودی اور ٹرمپ۔۔ تصویر:آئی این این

ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ہندوستان سے برآمد ہونے والی اشیاء پر اضافی محصولات عائد کیے ہیں۔ فی الحال، ہندوستانی مصنوعات پر ۵۰؍ فیصد ٹیرف ہے۔ ٹرمپ نے یہ قدم ہندوستان کے روس سے خام تیل کی درآمد پر غصے میں اٹھایا۔ ٹرمپ کے اس اقدام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کا انتظار گزشتہ دو ماہ سے جاری ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے زیر بحث تجارتی معاہدے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی۔
امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے تجارتی معاہدے کی ناکامی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ پی ایم مودی نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو فون نہیں کیا۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ یہ بیان انہوں نے ایک پوڈ کاسٹ کے دوران دیا۔ آل اِن پوڈ کاسٹ پر چمتھ پالیہاپیٹیا سے بات کرتے ہوئے لٹنک نے کہاکہ ’’میں نے ذاتی طور پر یہ معاہدہ طے کیا تھا۔ لیکن اس کے لیے پی ایم مودی کو صدر ٹرمپ کو فون کرنا پڑا۔ ہندوستان نے اس سے بے چینی محسوس کی  اور پی ایم مودی نے فون نہیں کیا۔ جب وزیراعظم نے فون نہیں کیا تو امریکہ  نے انتظار نہیں کیا۔لٹنک نے وضاحت کی کہ امریکہ نے انڈونیشیا، فلپائن، ویتنام اور ملائیشیا جیسے ممالک کے ساتھ’’ سیڑھیوں کے ڈھانچے‘‘ پر سودوں کو حتمی شکل دی۔

یہ بھی پڑھئے:ماسٹر شیف انڈیا نے مقابلہ کےمعذور شرکاکو خراجِ تحسین پیش کیا، مضبوط حوصلے کی تعریف کی

انہوں نے کہا کہ جب مودی نے فون نہیں کیا تو ہم آگے بڑھ گئے۔لٹنک نے یہ بھی وضاحت کی کہ مودی کے فون نہ کرنے کے تین ہفتے بعد ہندوستان نے دوبارہ رابطہ کیا۔ لیکن اب ٹیرف کی شرح پر بات چیت مشکل ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’اب ٹیرف کی شرحوں پر بات چیت کرنا مشکل ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:بنگلہ دیش کرکٹ کھلاڑیوں کو بڑا نقصان، ہندوستانی کمپنی اپنی اسپانسر شپ واپس لی

دونوں ممالک کے درمیان جنوری ۲۰۲۵ء سے مذاکرات جاری ہیں
امریکہ اور ہندوستان کے درمیان دو طرفہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے بات چیت جنوری ۲۰۲۵ء سے جاری ہے۔ فروری ۲۰۲۵ء میں ٹرمپ اور مودی نے ایک مشترکہ بیان میں ۲۰۳۰ء تک تجارت کو ۵۰۰؍ بلین ڈالر تک بڑھانے اور کثیر شعبوں کے تجارتی معاہدے پر بات کی۔ تاہم، دونوں ممالک ٹیرف، مارکیٹ تک رسائی  اور دیگر مسائل پر معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ حال ہی میں، امریکہ نے  ہندوستان  پر محصولات میں اضافہ کیا، جس سے مذاکرات متاثر ہوئے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اگر دونوں رہنما (ٹرمپ اور مودی) راضی ہو جائیں تو جلد ہی کسی معاہدے کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ دسمبر  ۲۰۲۵ء میں خارجہ امور کے ماہر فرید زکریا نے بھی کہا تھا کہ ڈیل ممکن ہے تاہم اس کے لیے دونوں لیڈروں کی رضامندی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK