روسی صدرشمالی کوریاکے دورے کے بعد ویتنام پہنچ گئے۔
EPAPER
Updated: June 21, 2024, 11:34 AM IST | Agency | Pyongyang/Hanoi
روسی صدرشمالی کوریاکے دورے کے بعد ویتنام پہنچ گئے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن شمالی کوریا کا دورہ مکمل کرکے ویتنام پہنچ گئے ہیں۔ پوتن کا ہنوئی میں ویتنام کے صدر ٹو لام نے ایک سرکاری تقریب میں استقبال کیا۔ خیال رہے کہ پوتن اور کم جونگ کے درمیان ملاقات میں دفاعی معاہدے پر دستخط کئے گئے ہیں۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کو روسی صدر نے اپنے دورے کے دوران شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ کے ساتھ ایک باہمی دفاعی پر دستخط کئے ہیں، پچھلے کئی برسوں میں اسے ایشیا میں روس کے سب سے اہم اقدام کے طور پر دیکھا جارہا ہے جبکہ کم نے اسے ایک ’اتحاد‘ قرار دیا ہے۔ جولائی۲۰۰۰ءکے بعد سے پیانگ یانگ کے اپنے پہلے دورے پر پوتن نے واضح طور پر روس کے شمالی کوریا کے ساتھ گہرے تعلقات کا عندیہ دیا ہے۔ یوکرین کیلئے مغرب کی بڑھتی ہوئی حمایت کے بعد ماسکو پیانگ یانگ کے ساتھ فوجی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دے سکتا ہے۔ روسی صدر نے۲۴؍ برسوں میں اس ملک کا پہلا دورہ کیا اس سے پہلے انہوں نے آخری دورہ ۲۰۰۰ء میں کیا تھا جب موجودہ لیڈر کم جونگ کے والد کم جونگ ال اقتدار میں تھے۔ دونوں سربراہان مملکت نے بات چیت کے بعد ایک جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بارے میں پوتن نے بتایا کہ کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کی صورت میں اس معاہدے میں باہمی دفاعی شق بھی شامل ہے۔
قابل ذکر ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن اور پوتن بڑے ہی تپاک سےملے۔ کم نے اپنے روسی ہم منصب پوتن کی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور انہیں دارالحکومت میں کئی جگہ کی سیر کرائی۔ اتنا ہی نہیں اپنے پالتوجانوروں سے بھی ملوایا۔ اس دوران دونوں نے خوب خوش گپیاں کیں۔