سمیروانکھیڈے کا نکاح نامہ پیش ،والد کا نام داؤدلکھا ہے

Updated: October 28, 2021, 10:14 AM IST | Mumbai

یہ نکاح نامہ ریاستی وزیر نواب ملک نےٹویٹرپر ظاہر کیا ، یہ دعویٰ بھی کیا کہ بین الاقوامی ڈرگس مافیا سمیروانکھیڈے کا دوست ہے ، ثبوت جلد پیش کروںگا۔این سی بی کے زونل ڈائریکٹرکی مشکلات میں اضافہ

Minister of State Nawab Malik making further allegations against Sameer Wankhede at a press conference.
ریاستی وزیر نواب ملک پریس کانفرنس میں سمیروانکھیڈے کے خلاف مزیدالزامات لگاتے ہوئے۔

  نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی)  کے زونل ڈائریکٹر سمیروانکھیڈے کے خلاف الزامات کا سلسلہ  جاری رکھتے ہوئے ریاستی کابینی وزیر اور این سی پی کے قومی ترجمان نواب ملک نے متعدد دستاویزات پیش کئے۔ انہوںنےاب  سمیر وانکھیڈے کا نکاح نامہ پیش کیا جس میں  سمیر کے والد کا نام داؤد لکھا ہوا ہے جبکہ سمیر کے والد اور  بیوی یہی دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ پیدائشی ہندو ہیں اور انہوںنے او ر سمیر نے مذہب تبدیل نہیں کیا ہے۔ نواب ملک نےیہ بھی الزام  عائد کیا کہ بین الاقوامی ڈرگس مافیا(داڑھی والا) سمیروانکھیڈے کا دوست ہے اور وہ جلدہی   اس کا  ثبوت بھی پیش کریں گے ۔ 
 بدھ کو منعقدہ پریس کانفرنس میں نواب ملک نے کہا کہ’’  سمیر وانکھیڈے اور کروز پر ریو پارٹی میں موجود ایک داڑھی والے ڈرگ مافیا کے درمیان دوستی ہے اس لئے اسے اس کارروائی سے علاحدہ رکھتے ہوئے دوسرے افرادکو نشانہ بنایا گیاہے۔دہلی سے آئی انکوائری کمیٹی اس تعلق سے تمام سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرے۔ اگر انہیں وہ فوٹیج نہیں مل رہا ہے اور اگر تفتیشی کمیٹی کے سینئر افسر ہمارے پاس آتے ہیں تو میں انہیں وہ فراہم کیلئے تیار ہوں۔چونکہ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو میں تمام ثبوتوں کو خود منظرعام پرلے آوںگا۔‘‘
 دریں اثنا، نواب ملک نے بدھ کو ٹویٹر پر سمیر وانکھیڈے کی مسلم طریقے سے شادی کی تصویر اورنکاح نامہ شیئر کرکےدعویٰ کیا کہ انہوں نے  ایک اور جعلسازی کا پردہ فاش کیا ہے۔نواب ملک نے کہا کہ این سی بی کے کسی گمنام اہلکار نے مجھے جو خط بھیجا تھا، وہ میں نے اپنے لیٹر ہیڈ کے ذریعے ڈی جی اور این سی بی کو بھیج دیا ہے۔ سی بی سی کی گائیڈ لائن کے مطابق کسی گمنام خط کی تحقیق نہیں ہوتی ہے لیکن اس خط میں جس طرح کے انکشافات کئے گئے ہیں، اگر ان کی جانب توجہ نہیں دی گئی تو پورے سسٹم پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمیر وانکھیڈے کی تفتیش کیلئے جو کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ، اس نے پنچوں کو طلب کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ این سی بی الیکٹرانک ثبوتوں کی بنیاد پر کارروائی کرتی ہے۔میرا مطالبہ ہے کہ پربھاکر سیل نے ایک حلف نامہ اور ویڈیو کے ساتھ پورے واقعہ کو بیان کردیا ہے۔ جوکمیٹی آئی ہے، وہ سمیر وانکھیڈے، کے پی گوساوی، پربھاکر سیل اور وانکھیڈے کے ڈرائیوار مانے وغیرہ کے سی ڈی آر نکلوائے اور ان کی تفتیش کرے۔نواب ملک کے مطابق ’’جس گاڑی کا استعمال۵۰؍ لاکھ روپے لے جانے کیلئے کیا گیا، وہ گاڑی اور جس طریقے سے سام ڈیسوزا کو پیسے دیئے گئے اس کو دیکھتے ہوئے ان کے بیانات درج کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ این سی بی الیکٹرانک ثبوتوں کی بنیاد پرتفتیش کرتی ہے اس لئے سی ڈی آر نکلوانے پر تمام سچائی سامنے آجائے گی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ملک کی ایجنسی بہت بڑی ہے،  وہ ہم سے بھی اگر چارقدم آگے جاکر کام کرتی ہے تو میں انہیں جو اشارے کررہا ہوں،  وہ ان کی جانب توجہ دے گی۔ این سی بی نے ایک سال قبل ایک ایف آئی آر درج کی تھی، اس میں کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی لیکن اس ایف آئی آر کی بنیاد پر دیپیکا پڈوکون، سارہ علی خان کو بلایا گیا تھا اور انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔ اگر یہ سب جھوٹ ہے تو اس وقت میڈیا کی  فوٹیج دیکھیں اور اس کی گہرائی میں جا کر تحقیقات کریں۔ تفتیشی کمیٹی کے افسران سمیر وانکھیڈے کے مالدیپ کے دورے پر بھی توجہ دیں کہ جس وقت سمیروانکھیڈے مالدیپ میں تھے اس وقت وہاںکون کون سے فلمی اداکار اوراداکارہ  تھے؟ اگر اس کی تفتیش کی جائے تو پورا کھیل سامنے آجائے گا۔
  نواب ملک نےکہا کہ ’’کروزپر  پارٹی فیشن ٹی وی نے منعقد کی تھی۔ اس معاملے میں ریاستی حکومت سے کوئی منظوری نہیں لی گئی تھی اور کووڈ ۱۹؍کی ہدایات کو بھی بالائے طاق رکھتے ہوئے براہ راست شپنگ ڈائریکٹر کی منظوری لی گئی تھی۔ اس کروز پر ٹارگیٹ کرتے ہوئے کچھ  افراد کو فوٹوز کے ذریعے ٹریک کیاگیا۔انہوںنے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس پارٹی میں ایک بین الاقوامی ڈرگس مافیا بھی موجود تھا۔ اس کے ساتھ اس کی گرل فرینڈ بھی تھی اور وہ اپنے ہاتھوں میں خطرناک ریوالور لئے ہوئے تھی۔ اس ریو پارٹی میں رقص کرتے ہوئے ایک داڑھی والاشخص موجود تھا۔ وہ داڑھی والا کون ہے؟ یہ این سی بی کے افسران کو معلوم ہے۔ جو تفتیشی افسران آئے ہیں، کھیل تو ہوگیا لیکن اس کا کھلاڑی ابھی تک کیوں آزاد گھوم رہا ہے؟ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK