آرگنائزر ابھیشیک نے کہا کہ نجی نمائش کیلئے سینسر بورڈ کاسرٹیفکیٹ ضروری نہیں۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 9:31 AM IST | Agency | Mumbai
آرگنائزر ابھیشیک نے کہا کہ نجی نمائش کیلئے سینسر بورڈ کاسرٹیفکیٹ ضروری نہیں۔
شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج میں سرگرم رول ادا کرنے کے بعد دہلی فساد کی وسیع تر سازش کے ملزم بنائے گئے عمر خالد پر دستاویزی فلم ’’قیدی نمبر ۶۲۶۷۱۰؍ حاضر ہے‘‘ کی نمائش میں رخنہ اندازی کے بیچ اتوار کو یہ فلم کرلا کی ایک نجی محفل میں دکھائی گئی۔ اس کی نمائش سنیچر کو ورسوا میں ہونی تھی۔ پرشانت پورندر اورشرستی کھنہ نے اس کا اہتمام کیاتھا ۔ان کا کہنا ہے کہ جس جگہ نمائش ہونی تھی اس جگہ کے منیجر پر پولیس نے دباؤ ڈال کر منسوخ کروادیا۔
یہ بھی پڑھئے: پرسون جوشی لفظوں کو زندگی کا لہجہ دینے والے قلمکار
اس کے بعد کرلا میں نجی محفل میں فلم کی نمائش کی گئی۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہاں کے آرگنائزر ابھیشیک نے نجی محفل میں نمائش کا حو الہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’’اس طرح کوئی نہیں کہہ سکتا کہ فلم کی عوامی نمائش ہوئی ہے اس لئے نمائش کا ضروری سرٹیفکیٹ ہونا چاہئے۔‘‘ واضح رہے کہ عمر خالد کی گرفتاری سے پہلے اور بعد کے حالات کا احاطہ کرنےوالی اس فلم کیلئے سینسر بورڈ کی منظوری حاصل نہیں کی گئی۔ ابھیشیک کے مطابق ’’فلم ممنوع نہیں ہے، ہمیں اس کو دیکھنے میں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘بامبے ہائی کورٹ کی وکیل چاندنی چاولہ نے بھی اس کی تصدیق کی کہ فلم کو سرٹیفکیٹ کی ضرورت اسی وقت ہوتی ہے جب اس کی عوامی نمائش ہو۔‘‘ بہرحال ملک بھر میں اس دستاویزی فلم کی نمائش میں رخنہ اندازی کی جارہی ہے اور شو منسوخ ہورہے ہیں۔