ہندوستان کی جانب سے تقریباً چار سالہ پرانی گیہوں کی برآمد پر پابندی ختم کرنے کے بعد مصر، انڈونیشیا، میانمار اور بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک نے گیہوں درآمد کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
EPAPER
Updated: April 12, 2026, 8:03 PM IST | New Delhi
ہندوستان کی جانب سے تقریباً چار سالہ پرانی گیہوں کی برآمد پر پابندی ختم کرنے کے بعد مصر، انڈونیشیا، میانمار اور بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک نے گیہوں درآمد کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ہندوستان کی جانب سے تقریباً چار سالہ پرانی گیہوں کی برآمد پر پابندی ختم کرنے کے بعد مصر، انڈونیشیا، میانمار اور بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک نے گیہوں درآمد کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ جلد ہی گندم برآمدی کوٹہ مختص کر سکتا ہے۔
تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جغرافیائی سیاسی وجوہات کی وجہ سے کچھ سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث رواں سال گندم کی برآمدات کے امکانات مثبت نظر آ رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب حکومت نے فروری ۲۰۲۶ء میں ۵ء۲؍ملین ٹن گیہوں اور مزید ۵ء۰؍ ملین ٹن پروسیس شدہ گندم مصنوعات کی ترسیل کی اجازت دی، جس کی وجہ وافر اسٹاک اور ریکارڈ پیداوار کا امکان بتایا گیا۔
رولر فلور ملرز فیڈریشن آف انڈیا کے صدر نوینت چِتلانگیا نے کہاکہ ’’ ہندوستانی گندم کی سی ایف آر(سی ایف آر) شرح تقریباً ۲۸۰۔۲۷۵؍ ڈالر فی ٹن کے حساب سے بنگلہ دیش تک قابلِ عمل اور مسابقتی ہے۔ حالیہ غیر موسمی بارشوں سے معیار کے معمولی مسائل پیدا ہوئے ہیں، تاہم حکومتی منظوریوں سے تجارت کے مضبوط امکانات ظاہر ہوتے ہیں، جو کسانوں کے لیے بھی معاون ہے۔‘‘
معیاری چیلنجز
ہندوستان، جو چین کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا گندم پیدا کرنے والا ملک ہے، نے مئی ۲۰۲۲ء میں غذائی تحفظ، کم پیداوار اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشات کے باعث گندم اور گندم مصنوعات کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی۔ اپریل کے آغاز میں فوڈ کارپوریشن آف انڈیا(ایف سی آئی ) کے پاس ۲۲؍ ملین ٹن سے زیادہ گندم کا ذخیرہ موجود تھا، جبکہ بفر ضرورت ۴۶ء۷؍ ملین ٹن ہے۔ تجارتی ماہرین کے مطابق یہ مضبوط ذخیرہ خردہ منڈیوں میں قیمتوں کے استحکام کا باعث بنا ہے۔ صارفین امور کے محکمے کے مطابق گندم کی اوسط خوردہ قیمت ۸۱ء۳۰؍ روپے فی کلو رہی، جو سال بہ سال ۳؍فیصد معمولی کمی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سلمان خان کی فلم ’’ماتر بھومی‘‘ براہِ راست او ٹی ٹی پر ریلیز ہوگی؟
چتلانگیا نے یہ بھی کہا کہ حالیہ غیر موسمی بارشوں، ژالہ باری اور تیز ہواؤں نے ۹؍ ریاستوں اور ۱۵۲؍ اضلاع میں گندم کی فصل کو متاثر کیا ہے، جس سے ۲ء۴؍ ملین ہیکٹر سے زائد رقبہ متاثر ہوا۔ ان کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ۲۰؍ سے ۳۰؍ فیصد تک معیار کا نقصان ہوا ہے—جس میں دانے کی رنگت خراب ہونا، چمک ختم ہونا اور نمی میں اضافہ شامل ہے—جبکہ مجموعی طور پر ۲؍ملین ٹن کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:پاور پلے کا اصلی دنگل: راجستھان کے بلے باز یا حیدرآباد کے نواب، کون مارے گا میدان؟
۱۲۰؍ ملین ٹن ریکارڈ پیداوار
وزارتِ زراعت کے مطابق ۲۶۔۲۰۲۵ء کے فصل سال (جولائی-جون) میں گندم کی ریکارڈ ۱۲۰؍ ملین ٹن پیداوار کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ تجارتی ذرائع کے مطابق یہ مقدار ۲۵۔۲۰۲۴ء کے۱۱۷؍ ملین ٹن سے زیادہ ہے۔ اس موسم میں گندم کا زیر کاشت رقبہ بڑھ کر ۴۱ء۳۳؍ملین ہیکٹر (ایم ایچ اے) ہو گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۳؍ فیصد زیادہ ہے اور معمول کے ۲ء۳۱؍ ملین ہیکٹر سے بھی زیادہ ہے۔