Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان میں مہنگائی ۷۴؍ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر، ڈیزل کی قیمت دُگنی ہو گئی

Updated: April 12, 2026, 9:06 PM IST | Karachi

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے پاکستان کی معیشت کو بحران میں ڈال دیا ہے اور اس کے نتیجے میں مہنگائی ۷۴؍ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ بات ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

Pakistan Rupee.Photo:INN
پاکستان روپے۔ تصویر:آئی این این

 مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے پاکستان کی معیشت کو بحران میں ڈال دیا ہے اور اس کے نتیجے میں مہنگائی ۷۴؍ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ بات ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔
پاکستانی اخبار’دی ایکسپریس ٹریبیون‘ کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے ملک کی مہنگائی کو دوبارہ دُہرے ہندسوں میں پہنچا دیا ہے، جس کے باعث حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) میں سالانہ بنیاد پر ۱۵ء۱۲؍ فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ۷۴؍ ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ اضافہ موجودہ بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ایک گانے کے لیے آشا بھوسلے اور محمد رفیع پر ۵۰۰؍ روپے کی شرط لگائی گئی تھی


پاکستان میں مہنگائی میں یہ اضافہ ۲۰۲۵ء کے آخر میں استحکام کے ایک دور کے بعد آیا ہے، جب سازگار بنیادی اثرات کے باعث جنوری ۲۰۲۶ء کے آغاز میں ایس پی آئی مہنگائی کم ہو کر ۴ء۲؍ فیصد تک آ گئی تھی۔ تاہم، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد صورتحال تیزی سے بگڑ گئی، اور اس سال فروری میں ریکارڈ کیے گئے تقریباً ۴؍ سے ۵؍ فیصد کے مقابلے میں مہنگائی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔اس اچانک اضافے کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام ہے۔ رسد میں خلل کے باعث بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کا اثر فوری طور پر پاکستان کی داخلی معیشت پر بھی پڑا، جہاں ایندھن کی لاگت مجموعی مہنگائی پر بڑا اثر ڈالتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سلمان خان کی فلم ’’ماتر بھومی‘‘ براہِ راست او ٹی ٹی پر ریلیز ہوگی؟


گزشتہ ایک سال میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، ڈیزل کی قیمت میں۰۲ء۱۰۱؍ فیصد، پیٹرول میں ۷۰ء۴۸؍ فیصد اور ایل پی جی میں ۸۶ء۵۶؍  فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے۔ اس تیز اضافے کے باعث نقل و حمل اور لاجسٹکس کی لاگت میں اضافہ ہوا، جس سے ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ گئیں۔ توانائی کے بحران نے غذائی مہنگائی میں بھی اضافہ کیا ہے، جس سے گھریلو بجٹ پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔ اہم غذائی اشیاء کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، پیاز گزشتہ سال کے مقابلے میں۸۰ء۳۷؍ فیصد، گندم کا آٹا ۱۰ء۳۰؍ فیصد اور ٹماٹر ۰۷ء۲۳؍ فیصد مہنگے ہو گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK