امریکی خاتون اول نے اولیشکی شہر میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا اعلان کیا، وہائٹ ہاؤس کے مطابق جنوبی یوکرینی شہر میں جنگ بندی کا۲۹؍ اکتوبر سےآغاز ہوگا۔
EPAPER
Updated: October 23, 2026, 9:03 PM IST | Oleshki
امریکی خاتون اول نے اولیشکی شہر میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا اعلان کیا، وہائٹ ہاؤس کے مطابق جنوبی یوکرینی شہر میں جنگ بندی کا۲۹؍ اکتوبر سےآغاز ہوگا۔
امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے جمعہ کو جنوبی یوکرین کے شہر اولیشکی میں روس اور یوکرین کے درمیان انسانی امداد کی فراہمی اور شہریوں کے انخلا میں سہولت کے لیے عارضی جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا۔وہائٹ ہاؤس کے مطابق مقامی جنگ بندی۲۹؍ اکتوبر سے شروع ہونے والی ہے۔میلانیا ٹرمپ نے بیان میں کہا، ’’اولیشکی کی صورتحال سنگین ہے۔ اولیشکی تباہی کے دہانے پر ایک فرنٹ لائن جنگی شہر ہے۔ اولیشکی کی باقی آبادی بنیادی طور پر بزرگ رہائشیوں پر مشتمل ہے جنہیں فوری طور پر طبی توجہ، ادویات، خوراک اور صاف پانی کی ضرورت ہے۔‘‘مزید برآں ’’اولیشکی کے لوگوں کے پاس محدود بجلی ہے، وہ بارودی سرنگوں والی سڑکوں کے درمیان رہتے ہیں، اور باقاعدہ فوجی حملوں کو برداشت کرتے ہیں۔ یہ بالکل واضح تھا کہ میری مداخلت کے بغیر، شہر میں انسانی امداد لانے اور بزرگوں کو نکالنے کا امکان ناممکن ہوگا۔‘‘ بعد ازاں وہائٹ ہاؤس نے کہا کہ خاتون اول اور ان کے نمائندے نے جنگ بندی کی شرائط طے کرنے کے لیے روسی اور یوکرینی قیادت کے ساتھ براہ راست کام کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی آئیووا میں انتخابی مہم، مشی گن کے ترقی پسند لیڈر کو ’جہادی‘ کہا
مجوزہ انتظام کے تحت، روس اور یوکرین کے شہری نمائندے رہائشیوں کے گھروں میں جا کر ان کی ضروریات کا جائزہ لیں گے اور اس بات کا تعین کریں گے کہ کس امداد کی ضرورت ہے۔ جو رہائشی جانے کا انتخاب کریں گے انہیں ان کی پسندیدہ منزلوں، بشمول روس یا یوکرین میں مقامات تک مربوط نقل و حمل فراہم کی جائے گی۔علاوہ ازیں منصوبے میں ایک امریکی میڈیا تنظیم سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آپریشن کے دوران روسی اور یوکرینی ٹیموں کے ساتھ رہے اور اس عمل کو دستاویزی شکل دے۔خاتون اول نے کہا کہ’’ آزاد دستاویزات کا مقصد یہ یقینی بنانے میں مدد کرنا ہے کہ انخلاء کے دوران خاندانوں کی خواہشات کا احترام کیا جائے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا مزید حملوں کا اشارہ، ایران کی امریکی ڈیٹا سینٹرز کو نشانہ بنانے کی دھمکی
واضح رہے کہ اولیشکی میں انسانی بحران میلانیا ٹرمپ کی توجہ میں نیویارک شہر میں ۸۱؍ویں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منعقدہ ان کے’’ فوسٹرنگ دی فیوچر ٹوگیدر ایونٹ ‘‘میں ایک نجی بحث کے دوران لایا گیا تھا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اولیشکی میں۱۷۰۰؍ سے۲۰۰۰؍ کے درمیان رہائشی باقی ہیں، جن میں تقریباً۵۰؍فیصد بچے بھی شامل ہیں۔