• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رائے پور کے اسکول میں برقعے کے خلاف نعرے، ایس آئی او کی شدید مذمت

Updated: September 21, 2026, 10:04 PM IST | Raipur

چھتیس گڑھ کے رائے پور کے ایک اسکول میں پروگرام کے دوران برقعے کو نشانہ بناکر مبینہ مذہبی نعرے لگائے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ ایس آئی او چھتیس گڑھ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

School students are being made to chant slogans. Photo: X
اسکول کے طلبہ سے نعرے لگوائے جا رہے ہیں۔ تصویر: ایکس

اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن چھتیس گڑھ نے رائے پور کے ایک اسکول میں پیش آنے والے مبینہ واقعے کی شدید مذمت کی ہے، جہاں ایک اسکول پروگرام کے دوران برقعے کو نشانہ بناتے ہوئے مذہبی بنیادوں پر توہین آمیز نعرے لگائے گئے تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں اسکول کے اسٹیج سے مبینہ طور پر ’’درگا بن، کالی بن، کبھی نہ برقعے والی بن‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس اسکول کی شناخت، متعلقہ پروگرام اور ویڈیو کے مکمل پس منظر کی فی الحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راہل کے پروگرام میں پی ایم مودی کی نقل اتارنے والے کامیڈین کے ۳؍ شوز منسوخ

اس ویڈیو پر ردِعمل دیتے ہوئے ایس آئی او چھتیس گڑھ نے کہا کہ اسکول کے کسی پروگرام میں اس قسم کے نعرے کا استعمال مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے اور یہ اس ادارے کی ذمہ داری پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جب کوئی ٹیچر اسکول کے پلیٹ فارم کا استعمال کسی مخصوص مذہبی شناخت کو نیچا دکھانے کے لئے کرتا ہے تو یہ صرف کسی ایک فرد کا غیر ذمہ دارانہ رویہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس ادارے پر بھی سوال کھڑے کرتا ہے جس نے یہ پلیٹ فارم فراہم کیا اور طلباء کے سامنے اس قسم کے پیغام کی اجازت دی۔ ایس آئی او نے زور دے کر کہا کہ اساتذہ کو مذہبی تعصب پھیلانے کے بجائے آئینی اقدار، مساوات، وقار اور باہمی احترام کو فروغ دینا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: آسام: ۱۴۰۰؍مسلم خاندانوں سےخالی کرائی گئی زمین پر اڈانی پاور پروجیکٹ شروع

تنظیم نے مزید کہا کہ اسکول انتظامیہ کو اس واقعے کی ادارہ جاتی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے، کھل کر اس واقعے کی مذمت کرنی چاہئے اور متاثرہ طلباء، ان کے والدین اور برادری سے بلا شرط معافی مانگنی چاہئے۔ ایس آئی او چھتیس گڑھ نے اس معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں کا کام ذہنوں کو روشن اور تعلیم یافتہ بنانا ہے، نہ کہ انہیں مذہبی تعصب کے زہر سے آلودہ کرنا۔

ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ردِعمل دیکھے جا رہے ہیں، لیکن اسکول اور ویڈیو کی ریکارڈنگ کے حالات کے بارے میں تفصیلات ابھی تک مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ اسکول انتظامیہ یا متعلقہ محکمہ تعلیم کی جانب سے بھی اب تک کوئی باضابطہ جواب یا موقف سامنے نہیں آیا ہے، حکام یا اسکول کی طرف سے بیان جاری ہونے کے بعد ہی مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK